ضیاء کالونی میں صائمہ خاتون کا فحاشی اڈاقائم،پولیس کی کالی بھیڑوں کی جیب گرم

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کورنگی ضیاء کالونی میں سرے عام مین روڈ پرصائمہ خاتون کافحاشی اڈا ابھی بھی قائم پولیس بلکل بند نہ کرواسکے-ذراٸع کےمطابق کچھ دن پہلےصائمہ اڈے والی پرچھاپااور چھاپے کے اندر بدنامہ زمانہ رفیق دلال کی دو بیگم بھی گرفتار ہوئے تھے یہ رفیق دلال ہے جس کی چار شادیاں ہین رفیق پنجاب سے شادیاں کر کے مختلف فحاشی اڈوں پر بھیجتا ہے کبھی صائمہ کے اڈے پر تو کبھی کے ڈی اے اللہ والا ٹاؤن توکبھی صدرتوکبھی گلستان جوہرتوکبھی ڈیفنس ٹو اڈے پر تو کبھی گزری کے اڈے پر یہ ایک دلال رفیق ہے جو تمام مختلف اڈوں پر خود چھوڑ کر آتا ہے تو سمجھو اور کتنے دلال ہوں گے اس کورنگی کے اندر کورنگی پولیس رفیق دلال کو پکڑنے میں بھی ناکام رہے ہے رفیق دلال نے بہت سے لڑکیوں کی زندگیان خراب کر چوکا ہے-

ضیاء کالونی کے فحاشی اڈے پر کافی مرتبہ پولیس کے چھاپے لگائے گئے پر مگر صائمہ کا فحاشی اڈا بند کرنے میں پولیس ناکام رہے آخر پولیس یہ جسم فروشی کے دھندھے کو بند کیوں نہیں کرتی ہے سوال

ضیاء کالونی مین روڈ صائمہ کے اڈے پر نوجوان لڑکیاں اور بڑی عمر کی عورتیں سرے عام جسم فروشی کے اس گندے کام کو کئی سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے کیا تھانے کا SHO بند کرنے کا حکم کیوں نہیں دیتے ہیں کئی بار ایس ایچ او صاحب سے میڈیا والوں نے پوچھا کہ صائمہ اڈے والی کہتی ہے کہ میں ایس ایچ او اور غریب نواز چوکی پولیس والے کو بھی مہینہ اور ہفتہ دیتی ہوں تو ایس ایچ او صاحب کا میڈیا سے کہتے ہیں کہ میں فحاشی کے اڈوں کے پیشے نہیں لیتا ہوں نہ میری حدود کی پولیس لیتے ہے جواب SHO کا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پولیس پیسے لیتے ہی نہیں ہے تو تھانہ کورنگی کی حدود میں مختلف جگہوں پر یہ فحاشی اڈے قائم کیوں ہیں ان کو بند کرنے کا ایس ایچ او صاحب حکم کیوں نہیں دیتے ہیں کے ان تمام فحاشی اڈے بند کئی جائیں یہ اہم سوال ہے ایس ایچ اؤ کے لیے اور ان فحاشی کے اڈوں پر کٔئے بار چھاپے مار کر ایف آئی آریں بھی کاٹی گئی ہیں اور دوسرے دن پھر سے فحاشی اڈے کھل جاتے ہیں جسے ہم فرشی کا کام جاری کر دیتے ہیں ایس ایچ او اپنے حد کا مالک ہوتا ہے آخر کیا وجہ ہے جو فحاشی اڈے بند کرنے کا حکم کیوں نہیں دیتے ہیں یا پھر پوری دال ہی کالی ہے

کورنگی کے شہریوں نے آٸی جی سندھ غلام نبی میمن ۔ ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو ۔ ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس ایس پی کورنگی کو اپیل کرتے هیں کے صائمہ کا اڈا اور عظیم جٹ کا اڈا ۔ طاہرہ کا اڈا قاسم بنگالی کا اڈا گلزار کا اڈہ یہ سب تھانہ کورنگی کی حدود میں قائم ہیں ان کے فحاشی اڈوں کو بلکل بند کرایا جاٰے

ایک ضیاء کالونی میں صائمہ کا اڈا ۔ دوسرا 32 اے میں عظیم جٹ کا اڈا ۔ تیسرا کورنگی نمبر دو طاہرہ خاتون کا اڈا ۔ چوتھا ناصر جمپ قاسم بنگالی کا اڈا ۔ پانچواں ضیاء کالونی بنگالی پاڑے میں گلزار کا اڈا یہ سب تھانہ کورنگی کی حدود میں قائم ہے کئی بار خبریں چلنے کے باوجود بھی یہ فحاشی اڈے بند نہ ہو سکے کورنگی پولیس کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں