چنگچی رکشا پر پابندی کے خلاف سندھ حکومت کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)چنگچی رکشا ایسوسی ایشن نے مختلف روٹس پر چنگچی رکشوں پر عائد پابندی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، جس پر عدالت نے سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور چنگچی رکشا بنانے والی کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 فروری تک جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست کی سماعت جسٹس یوسف علی سعید نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل قاضی عبدالحمید نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت کے فیصلے سے شہر بھر میں تقریباً 60 ہزار چنگچی رکشے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے شہر کے 26 اہم روٹس پر چنگچی رکشوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، حالانکہ ان روٹس کے لیے جاری کیے گئے روٹ پرمٹس کو باقاعدہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں چنگچی چلانے والوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس پابندی سے نہ صرف چنگچی رکشا ڈرائیورز بلکہ رکشا بنانے والی کمپنی میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے حکومت کا تحریری جواب آنے دیا جائے، اس کے بعد تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں