اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)اس وقت ملک میں گندم کے ذخائر کی سطح تسلی بخش ہے یا نہیں، اس سلسلے میں وفاق کا اہم اعلامیہ سامنے آگیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت پاکستان میں گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس ہوا، ملک میں گندم کے ذخائر کے حوالے سے کمیٹی کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی، نائب وزیراعظم آفس کے اعلامیہ میں ملک میں گندم ذخائر کی سطح کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وفاق کے پاس اس وقت تقریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے، گندم کو ضرورت کے مطابق صوبوں کو جاری کیا جاسکتا ہے۔
گندم کی ملک بھر میں فراہمی یقینی بنانے کے پیش نظر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے ملک بھر میں یقینی غذائی تحفظ اور گندم کی بروقت تقسیم کےعزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت نے زرعی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کا فیصلہ کیا ہے، زرعی اجناس کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا حکومتی پلان سامنے آیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق گندم اور چینی کے سیکٹرز میں مسابقت بڑھانے کے لیے قیمتوں کا تعین مارکیٹ بیسڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گندم سیکٹر کے لیے وفاقی و صوبائی قیمت مقرر کرنے کا نظام مجوزہ اقدامات کا حصہ ہوگا، گندم کی سرکاری سطح پر خریداری مرحلہ وار بند کر دی جائے گی،
قومی گندم پالیسی 2025,2026 اقداماتی پلان کا حصہ ہوگا، جب کہ طویل المدتی گندم پالیسی مئی 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر لیا گیا ہے۔


