کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور ریبیز ویکسین پروگرام کی عدم دستیابی کے حوالے سے عدالت نے سخت ردعمل دیا ہے۔
درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے آئینی بینچ کو بتایا کہ سال 2025 میں سندھ میں 22 شہری کتوں کے کاٹنے سے ہلاک ہوئے جبکہ 29 ہزار افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے 2024 میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، مگر سندھ حکومت نے اب تک ان پر عمل نہیں کیا۔
درخواست گزار نے مزید بتایا کہ کے ایم سی ہیلپ لائن نمبر 1093 بھی غیر فعال ہے اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے چار ہفتوں میں مفصل رپورٹس طلب کر لیں تاکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جا سکے۔ عدالت کے سرکاری وکیل نے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ویکسین ہر جگہ دستیاب ہے اور ڈی جی سے رپورٹ جمع کروا دی جائے گی۔
جسٹس یوسف علی سعید نے کہا کہ جب جواب آئے گا تو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی جلد سماعت کی جائے کیونکہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات سے صوبے میں ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔


