کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ایڈیشنل آئی جی کراچی کی آئینی بینچز کے سربراہ جسٹس کے کے آغا سے ملاقات-ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کی میڈیا سے گفتگو-پولیس کی ہیوی ٹرانسپورٹ ایسوسیشن سے ہمدردی کا تاثر درست نہیں ہے-پولیس کے تربیت متاثرین کی مدد کے لئے ہوتی ہے-
پولیس نےجتنی ہیوی گاڑیاں بند کی ہیں، ہمیں زیادہ شکایات تو ہیوی ٹریفک ایسوسی ایشن کی ہوتی ہے-پولیس کا کام متاثرین کی مدد کرنا ہے-قوانین کی خلاف ورزی پر ہیوی ٹریفک کے صرف چالان نہیں کئے جاتے، مقدمات بھی کئے جاتے ہیں اور گاڑیاں بھی بند کی جاتی ہیں-یکم اکتوبر سے فیس لیس انفورمنٹ سسٹم نافذ کررہے ہیں-
اس سسٹم کے نفاذ سے پولیس کی مداخلت ختم ہوجائے گی-شواہد کی بنیاد پر ای چالان کی صورت میں کوئی تنازع نہیں ہوگا-ہیوی ٹرانسپورٹ ایسوسیشن نے معاہدہ کیا ہے کہ ہیوی گاڑیوں میں حفاظتی جنگلے اور کیمرے نصب کریں گے-قانون پر سب سے عمل کرنا ہے-اگر قانون کی خلاف ورزی ہوگی تو قانون کے مطابق سامنا کرنا پڑے گا-بڑی آبادی والے شہر میں ہیوی ٹریفک کے لئے فری ویز ہونی چاہیئے-
پورٹ تک ہیوی ٹریفک کی رسائی کے لئے علیحدہ روڈ ہونا چاہیئے-کوشش کررہے ہیں کہ انڈسٹریل زونز میں ہیوی ٹریفک کے لئے مخصوص سڑکیں ہوں-ہیوی ٹریفک کو گلیوں اور چھوٹی سڑکوں پر آنے سے روکنے کے لئے کام کررہے ہیں-تمام اداروں کے ساتھ مل کر طویل المدتی پلان پر کام کررہے ہیں-
پولیس کی کوششوں سےجرائم کی شرح میں کمی آئی ہے-سڑکوں کی خرابی بھی حادثات کی ایک وجہ ہے-بدقسمتی ہےکہ برسات کےبعد سڑکیں خراب ہوتی ہیں-میئرکراچی کا106 سڑکوں کی مرمت کا اعلان خوش آئند ہے-سڑکوں سے مرمت سے شہریوں کو بڑی سہولت ہوگی-


