5

سندھ ہائیکورٹ: 15 لاپتا افراد کی بازیابی کیس، پولیس پر سخت برہمی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں 15 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے لاپتا افراد کے مقدمات درج نہ ہونے پر پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس **محمد سلیم جیسر** نے ریمارکس دیے کہ جو شہری لاپتا ہیں ان کی گمشدگی کے مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ **حاکم علی شیخ** نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض کیسز میں اہلخانہ نے پولیس سے رجوع ہی نہیں کیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اہلخانہ آج ہی متعلقہ تھانوں سے رابطہ کر کے مقدمات درج کرائیں۔

عدالت نے مختلف افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کا حکم بھی جاری کیا، جن میں شامل ہیں:

* تھانہ گلشن اقبال کے علاقے سے لاپتا **فراز علی**
* تھانہ پاپوش نگر کے علاقے سے لاپتا شہری **اظہرالدین**
* ماچکو کے علاقے سے لاپتا **دایدار حسین**

عدالت نے ہدایت کی کہ جن افراد کے مقدمات پہلے ہی درج ہو چکے ہیں، ان کی فوری تلاش یقینی بنائی جائے۔

جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ عدالت کو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق واضح پیش رفت نظر آنی چاہیے۔

عدالت نے دیگر رپورٹس ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

مزید سماعت **6 اگست** تک ملتوی کر دی گئی۔

### حمایت کی اپیل

انسانی حقوق اور لاپتا افراد کے کیسز پر ذمہ دار رپورٹنگ کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)

یہ خبر عدالتی کارروائی اور ریمارکس پر مبنی ہے۔ کیسز زیرِ سماعت ہیں اور مزید پیش رفت عدالت کے آئندہ احکامات پر منحصر ہے۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کا پابند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں