**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان پوسٹ کے معذور ملازم کی بیٹی کی ملازمت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے درخواست گزار **جویریہ** کی ملازمت بحال کرنے اور تمام واجبات ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق جویریہ کے والد پاکستان پوسٹ میں پورٹر کے عہدے پر ملازم تھے اور بعد ازاں طبی بنیادوں پر ریٹائر ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد جویریہ نے معذور کوٹے کے تحت ملازمت حاصل کی، تاہم 2025 میں ان کی ملازمت ختم کر دی گئی۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم امدادی پیکیج اور متوفی یا معذور ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق پالیسی مؤثر نہیں رہی، جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق درخواست گزار تقرری کی حق دار نہیں تھیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس نوعیت کی پالیسیوں میں تبدیلی آ چکی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ان کی تقرری تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کی گئی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی تقرری پہلے ہی عمل میں آ چکی تھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پہلے سے ہونے والی تقرریاں متاثر نہیں ہوتیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ملازم کی برطرفی یا معذوری سے اہل خانہ کے حاصل شدہ حقوق ختم نہیں ہوتے۔
عدالت نے قرار دیا کہ 2022 کی ترمیم کے بعد درخواست گزار مستقل تقرری کی حق دار تھیں، لہٰذا محض انتظامی بنیادوں پر ملازمت ختم کرنا درست نہیں تھا۔
عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو مستقل بنیادوں پر بحال کیا جائے اور تمام سابقہ مراعات اور تنخواہیں بھی ادا کی جائیں۔
—
### حمایت کی اپیل
سرکاری ملازمین کے حقوق اور عدالتی فیصلوں پر ذمہ دار رپورٹنگ کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)
یہ خبر عدالتی فیصلے اور ریکارڈ پر مبنی ہے۔ متعلقہ محکمے کی جانب سے اپیل یا مزید قانونی کارروائی ممکن ہے۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کا پابند ہے۔


