**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کھوکھراپار میں مبینہ “پین بم دھماکے” کے واقعے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکے کی خبر جھوٹی اور گمراہ کن تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کو حفاظتی تحویل میں لینے کے بعد اس نے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا کہ اس نے واقعے سے متعلق غلط معلومات دی تھیں۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کو کوئی بم نہیں ملا تھا بلکہ وہ اپنی بہن کی سالگرہ کے لیے پٹاخہ لایا تھا جو ہاتھ میں جلانے کے دوران پھٹ گیا، جس سے وہ زخمی ہوا۔
حکام کے مطابق پٹاخہ ملیر کے علاقے سے خریدا گیا تھا اور واقعہ ماڈل کالونی ریلوے ٹریک کے قریب باڑے کے علاقے میں پیش آیا۔
تحقیقات میں حاصل ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان کے ہاتھ میں پٹاخہ پھٹتا ہے۔
قبل ازیں نوجوان نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے سڑک کنارے ایک چمکتی ہوئی پین نما چیز ملی جو اٹھانے پر دھماکے سے پھٹ گئی۔
زخمی نوجوان کی شناخت **عبدالسمیع** کے نام سے ہوئی ہے جو نیو کراچی کا رہائشی اور ماڈل کالونی کے قریب ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں ملازمت کرتا ہے۔
پولیس نے اسپتال میں متاثرہ نوجوان اور اس کی والدہ کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔
ڈاکٹروں کے مطابق نوجوان کے ہاتھ میں گہرا زخم اور ایک انگلی میں فریکچر آیا ہے۔
پولیس نے کھوکھراپار تھانے میں نوجوان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے اور اداروں کو گمراہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
—
### حمایت کی اپیل
ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)
یہ خبر پولیس تحقیقات اور ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آ سکتی ہیں۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کا پابند ہے۔


