کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)قدیم علاقے لیاری میں جرائم پیشہ سرگرمیوں کا راج کوئی نئی بات نہیں، مگر کلاکوٹ میں حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہ قانون نافذ کرنے والوںاداروں کے کردار پر سنگین سوالیہ نشان ہیں۔نا صرف ایس ایچ او کلاکوٹ ، کلاکوٹ پولیس بلکہ پوری ڈسٹرکٹ پولیس کا کارگردگی پرسنگین سوالیہ نشان ہیں-
محسن چھالیہ کا حاجرہ اسٹور اب نان کسٹم چھالیہ کا سب سے بڑا ہول سیل مرکز بن چکا ہے۔مین روڈ چیل چوک پر آزادانہ چھالیہ کی ترسیل حیران کن ہے اور لی مارکیٹ میں چاچا مجید چھالیہ والے کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔
گٹکا فیکٹریوں کا جال بھی پھیل چکا ہے۔ غلام جان، ملا نعیم اور ماما اسلم بلوچ جیسے عناصر کھلے عام ماوے گٹکا تیار کر رہے ہیں۔ جوئے اور سٹے کے اڈے منا جاوہ، فراز گبول، حارث نیازی اور ملاح کے ذریعے دن رات چل رہے ہیں۔ رمی اور مانگ پتہ کلبز کا نظام بھی خالد بلوچ، محسن بلوچ اور ناصر سرائیکی جیسے کرداروں نے سنبھال رکھا ہے۔
گھاس منڈی دبئی بلڈنگ کے نیچے چلنے والا جواخانہ کلاکوٹ پولیس اور لال داد پٹھان کے مجرمانہ گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے-چیل چوک اور آٹھ چوک کے اطراف میں بکتا ایرانی پٹرول کلاکوٹ پولیس کی کارگردگی کا پول کھول رہا ہے-کلاکوٹ پولیس سٹیشن میں تعینات PC ساجد گنجا کس کی شہہ پر جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتا نظر آتا ہے-
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انٹیلیجنس افسر سراج سائیں جن کا کام علاقے کی انٹیلیجنس رپورٹ اعلی افسران تک پہنچانا ہے ۔ جناب کی مکمل خاموشی جرائم پیشہ سے ملی بھگت کا ثبوت ہے یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسے عناصر کو تحفظ کون فراہم کر رہا ہے؟ کیا ریاستی ادارے محض تماشائی بنے رہیں گے؟
عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، شہری بار بار دہائی دے رہے ہیں کہ ان غیر قانونی دھندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ لیکن جب ادارے ہی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں تو پھر لیاری کے عوام کس سے امید رکھیں؟
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اعلیٰ سطح پر جواب طلبی ہو، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور علاقے میں جرائم کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ بصورت دیگر لیاری ایک بار پھر وہی جرائم کی جنت بن سکتا ہے، جس کی قیمت صرف وہاں کے عوام نہیں بلکہ پورا شہر ادا کرے گا۔


