کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد نہ ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی-وزارت جامعات و بورڈز کا جواب داخل نہیں ہوا، عدالت نے جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی-درخواست میں چیف سیکرٹری، محکمہ یونیورسٹی و بورڈز، جامعہ کراچی و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے-
عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 26ستمبر تک ملتوی کردی-پنجاب اور اسلام آباد میں تو عملدرآمد ہونا شروع ہوا ہے لیکن سندھ میں نہیں-2019 میں سندھ اسمبلی نے اسٹوڈنٹ یونین ایکٹ پاس کیا تھا-ایکٹ سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن 2022 میں جاری ہوا-لیکن آج تک کسی بھی جامعہ و کالج میں طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کروائے گئے-
1984 میں ایک آمر کی حکومت نے طلبہ یونین پر پابندی لگائی تھی-جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے الیکشن کا شیڈول جاری کیا ہے-صرف سندھ میں قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے-
طلبہ کی سیاسی و شعوری تربیت کیلئے طلبہ یونین کا ہونا ضروری ہے-طلبہ یونین سے ماضی میں بڑے سیاستدان، دانشور و بڑے نام پیدا ہوئے-


