کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) “ماحولیاتی تبدیلی ایک ہنگامی صورتحال ہے، تمام صوبوں اور متعلقہ فریقین کو قومی گرین ٹیکسونومی پالیسی پر اتفاقِ رائے کرنا ہوگا” – سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کو 19 مارچ 2025 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کراچی میں قومی گرین ٹیکسونومی پالیسی پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر زرکا سہروردی، سینیٹر تاج حیدر، سینیٹر قرۃ العین ماری، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ڈپٹی گورنر سلیم اللہ، جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ خزانہ محمد ندیم میمن، سیکرٹری وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا چوہدری، او سی سی آئی، پاکستان بزنس کونسل کے نمائندگان اور میڈیا کے افراد نے شرکت کی۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ پالیسی کا مسودہ مشاورت کے مراحل میں ہے اور اسی ماہ اسے حتمی شکل دے کر شیئر کیا جائے گا۔ یہ پالیسی تمام متعلقہ فریقین بشمول وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ان شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جو معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور ساتھ ہی کاربن کے اخراج میں ان کا کردار بھی نمایاں ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، جنگلات و ماہی گیری، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ، توانائی، تعمیرات، پانی و فضلہ، اطلاعات و مواصلات اور سیاحت شامل ہیں۔ شناخت کے بعد، ان شعبوں کو کاربن فوٹ پرنٹ کی بنیاد پر سبز (Green)، امبر (Amber) اور سرخ (Red) زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد، ان شعبوں میں تخفیف اور موافقت کے عمل پر مشاورت اور آگاہی فراہم کی جائے گی۔
سینیٹر شیری رحمان نے اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا دوسرا سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسودے کو کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) کے ذریعے بھی پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ صوبوں کا اس پر عملدرآمد میں کلیدی کردار ہوگا۔ انہوں نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کو بھی ہدایت دی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات تیز کرے اور عوام میں شعور پیدا کرے۔ انہوں نے کہا، “پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، ہمارے کسان اپنی فصلوں کے لیے پانی کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں، اور امریکہ کے پیرس معاہدے سے علیحدگی کے بعد ہمیں خود اقدامات اٹھانے ہوں گے کیونکہ اب ہمیں کوئی دوسرا بچانے نہیں آئے گا۔” مزید برآں، انہوں نے تجویز دی کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور ای پی ایز (EPA’s) کو کاربن کے اخراج کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف اقدامات میں قیادت کرنی چاہیے۔
سینیٹر تاج حیدر، سینیٹر زرکا سہروردی، اور سینیٹر قرۃ العین ماری نے بھی سفارش کی کہ اس پالیسی کے مسودے کو قانون سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور اسے قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی اور خزانہ کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ مزید یہ کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی استعداد کار میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بعد ازاں، سینیٹرز نے اسٹیٹ بینک میوزیم کا دورہ کیا اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے تاریخ کو محفوظ رکھنے کی کاوشوں کو سراہا۔


