”سندھو بچاؤ سندھ بچاؤ“جمعیت علمائے اسلام سندھ کی نئی تحریک

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) جمعیت علماء اسلام ضلع جنوبی کے امیر مولانا نورالحق، ضلع کیماڑی کے امیر قاضی فخرالحسن، ضلع غربی کے سنئیر نائب امیر مولانا حبیب الرزاق، جنرل سیکرٹری مولانا اشرف مینگل نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دریائے سندھ پر کینالوں کی تعمیر اورسندھ بھرمیں بدامنی،کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، پانی کی عدم دستیابی ابلتے گٹر، گیس کی بندش اور بجلی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سندھ کی جانب سے دریائے سندھ پر کینالوں کی تعمیر اور سندھ بھرمیں بدامنی کے خلاف”سندھو بچاؤ سندھ بچاؤ“ کے عنوان سے تحریک چلائی جارہی ہے،یہ تحریک سندھ کے پانی کے وسائل کے تحفظ اور نہروں کی غیر قانونی تعمیر کے اور بدامنی خلاف جے یو آئی کی جدوجہد کا حصہ ہے،دریائے سندھ پر نئے کینال کسی صورت قبول نہیں ہیں، پریس کانفرنس میں جے یو آئی ضلع جنوبی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا نصیر اللہ چغرزئی، مولانا عمر فاروق، ضلع کیماڑی کے ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر سعید خان چھاچھی، مولانا امداد اللہ انصاری، ثناء اللہ شینواری بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر فتویٰ دیا تھا،کینالز کے خلاف بھی فتویٰ مرتب ہورہا ہے، اگر دریا کا میٹھا پانی سمندر میں نہ گیا تو ٹھٹہ، بدین صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے،سندھ کے وسائل، جزائر دا? پر ہیں،اب دریا پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے،14 مارچ دریاؤں کے عالمی دن پر صوبہ سندھ میں جمعہ نماز کے بعد کینالز کے خلاف ہر شہر اور گاؤں میں احتجاج کیا گیا،رمضان کے بعد گلی گلی اور محلوں محلوں میں سندھو بچاو اور سندھو بچاو عنوان کے تحت احتجاج ہوگا،جے یو آئی 6 اپریل کو عید کے فورا بعد گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج سمیت مختلف مقامات پر دھرنے دیئے جائیں گے۔ عید کے بعد سندھ بھر کے قبائلی سرداروں،سیاسی،مذہبی،قوم پرست سربراہوں پر مشتمل قومی جرگہ منعقد کیا جائے گا، دریائے سندھ پر سندھ کا حق ہے کوئی بھی ڈیم یا کینال سندھ کی اجازت کے بغیر نہیں بن سکتے اس سلسلے میں جید علمائکرام کی کالاباغ ڈیم کے خلاف فتویٰ موجود ہے،۔ کالا باغ ڈیم کے خلاف بھی شرعی فتویٰ جے یو آئی نے نے دیا تھا اور سندھ کی تقسیم کے خلاف بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے،یہ منصوبے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے اور اس سے سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی، جبکہ انڈس ڈیلٹا تباہ اور کراچی کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا،جے یو آئی سندھ کی جانب سے سندھ کے پانی پر ڈاکے اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور پی پی پی کی قیادت میں شریک ہوئیں۔جے یو آئی سندھ کی قیادت جو فیصلہ کرے گی کراچی کے تمام اضلاع اس پر لبیک کہتے ہوئے صف اول کا کردار ادا کریں گے۔سندھ بھر میں بدامنی اور ڈاکو راج کی طرح صوبائی دارالحکومت میں بھی سفاک ڈکیت دندناتے پھر رہے ہیں اور اسٹریٹ کرائم کے دوران معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں،کراچی بھرخصوصاً ضلع سا?تھ، ضلع کیماڑی اورضلع غربی کے عوام بنیادی مسائل خصوصا پانی کی عدم دستیابی، ابلتے گٹر، گیس کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہیں، رمضان المبارک کے دوران بھی بجلی وگیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے،، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار،صاف پانی کی فراہمی معطل اور سیوریج کا سسٹم ناقص ہوچکا ہے،گٹرابل ابل کرگلیوں میں گندگی کا باعث بن رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بد ترین بحران پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوامی احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوتا چلا جائیگا۔ جزائر،وسائل،کارونجھر کی فروخت کے خلاف جے یو آئی کی جدوجہد بھی سب کے سامنے ہے، کراچی کی ڈھائی کروڑ عوام پانی کو بوند بوند کو ترس رہی ہے،سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے،سکھر اور لاڑکانہ میں مغرب کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے،کچے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی پکے کے ڈاکو کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں