کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) دریاؤں کے عالمی دن 14 مارچ کو سندھ یوناٸٹیڈپارٹی جیے سندھ محاذ سگا سندھی ادبی سنگت مارو مہنجا ملیر کا کی جانب 6 کینال نکالنے کے خلاف گلشن حدید فیز ٹو ایل 7 مارکیٹ سے اللہ والی چورنگی تک احتجاجی ریلی نکالی گٸی جو جلسے کی صورت اختیار کر گٸٗی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس مین مختلف علاقوں سے گذرتے ھوئے جلسے کی صورت اختیار کر گٸی ، دریا سندھ کی بحالی اور آزادی تک تحریک جاری رھے گی ۔
آج دریاوں کے عالمی کے موقع پر سول سوساٸٹی کہ رھنماون ادیب دانشور پرفیسر آغاشیر گل سرکی ڈاکٹر نظیر پنھور، زاھد شیخ قوم پرست رھنماون ادریس چانڈیو علی نواز بھٹ منظور ابڑو سمیت شبیر شاھ اور استاد حنیف لاشاری زاھد شیخ نے قومی گیت پیچھ کٸی اور کھا۔ جن قوموں اور تہذیبوں نے اپنے آپ کو اور اپنی قدرتی وسائل اور پانی اور دریا کو نہیں بچایا تو وہ اپنی دھرتی سے مٹ گئے ہیں ۔ آج حکمراں اگر دریا سندھ سے کینال نکالنے میں کامیاب ہوگئے ، تو سندھ بنجر بن جائے گی اور آہستہ آہستہ لوگوں کا وجود بھی ختم ھو جائے گا ۔
سندھ دھرتی کا بچہ بچہ کٹ مرے گا، مگر چولستان میں کینال کی مخالفت جاری رکھے گا ۔ گلیشیئرز پگھل رھے ہیں ، ڈیلٹا میں پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سمندر اوپر چڑھ رھا ھے ، انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریائے سندھ پر بننے والے کینالوں کی شدید مخالفت کرتے ہیں ، اور اس ابی نظام اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ میں پڑنے نہیں دیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ دریائے سندھ پر کینال بننے سے سندھ کی زمین اور زراعت ختم ھوکر رہ جائے گی اور سندھ کے 6 کروڑ لوگ پیاسے ھوکر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دوھ بیٹھیں گے ، کیوں کہ ھمارے زیادہ تر لوگ دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ ھمارا ڈیلٹا تباہ ھے ، لوگوں کے ان کی زراعت اور زمینیں ، مال مویشی ، سب تباھ ھوچکے ہیں ، اور دریا سندھ کا پانی ڈیلٹا تک نہ جانے کی وجہ سے 41 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کے زیر آب آ چکی ھے ۔دریا سندھ پر ڈیم ، کینال بننے سے ماحولیات اور انسانی حقوق کی روشنی میں پانی کے مئسلے کو سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا ۔ اس موقع پر سجاد شیخ عبدرسول بلالی ستار ابڑو رضا جتوٸی عبدالکریم سومرو اصغر با غی عرفان مراٸی بھی موجود تھے


