جو لوگ آگ کے انگاروں پر چل رہے ہوتے ہیں یہ نہ کوئی کرامت ہے نہ جادو بلکہ خالص سائنس ہے۔ دراصل سارا کمال کوئلے کا ہے بندے کا نہیں۔ کوئلہ دھک رہا ہوتا ہے مگر اس کی گرمی لوہے یا کسی اور دھات کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر پیر زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ رکھو گے تو جلے گا ضرور لیکن اگر تیزی سے چلو گے تو بچ جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض اوقات راکھ کی ہلکی سی تہہ بھی ایک اضافی حفاظتی تہہ کا کام دیتی ہے بالکل جیسے ہم بچپن میں جلتے ہوئے چمچ پر پھونک مار کر پکڑ لیتے تھے۔ اب جو لوگ اسے روحانی طاقت سمجھ کر عقیدے میں لپیٹ کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ اگر واقعی یہ کوئی کرامت ہوتی ہے تو پھر یہی لوگ ابلتے ہوئے تیل میں ہاتھ کیوں نہیں ڈالتے؟ یا پانی پر کیوں نہیں چلتے؟


