دسمبر 2007 میں سابق وزیراعظم **محترمہ بینظیر بھٹو** کے قتل کے بعد کراچی میں حالات شدید خراب ہو گئے تھے، جن میں پرتشدد مظاہرے، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور کئی افراد کی ہلاکتیں شامل تھیں۔
**عوامی ردعمل:**
بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر پھیلتے ہی ان کے حامیوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں، خاص طور پر سندھ اور کراچی میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔
**مجرم عناصر اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ:**
رپورٹس کے مطابق اس موقع پر عام شہریوں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروہوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز نے بھی انتشار میں حصہ لیا۔ ان میں **پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)** اور **عوامی نیشنل پارٹی (ANP)** شامل تھیں، جو شہر کے وسائل اور بھتہ خوری کے معاملات پر ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔
**سکیورٹی اور حکومتی ناکامی:**
اس وقت کی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید تنقید کی گئی کہ انہوں نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کی وجہ سے شہر میں افراتفری اور انارکی پھیل گئی۔ نتیجتاً اس وقت کے سندھ کے **ہوم سیکرٹری** اور **انسپکٹر جنرل آف پولیس** کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
بینظیر بھٹو کے قتل کی کئی تحقیقات ہوئیں، جن میں بین الاقوامی انکوائری بھی شامل تھی، لیکن آج تک کوئی بھی فرد یا ادارہ کراچی میں ہونے والے ان مخصوص ہنگاموں کا حتمی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، اور یہ سوالات آج بھی باقی ہیں۔


