14

خاتون نے زیادتی کرنے والے شخص سے شادی کیوں کی؟ عدالت نے درخواست خارج کر دی

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کے خلاف خاتون کی دائر درخواست خارج کر دی۔ درخواست پر سماعت جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اُس نے اسی شخص سے شادی کیوں کی؟ عدالت میں خاتون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے خاتون سے شادی کی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے استفسار کیا کہ اگر شادی ہو گئی تھی تو پھر خاتون کو طلاق کیسے ہو گئی؟ اس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے 17 جون 2025 کو زیادتی کی، 26 جون کو دونوں کی شادی ہوئی اور بعد ازاں 6 اگست کو ملزم نے خاتون کو طلاق دے دی۔

جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ ریپ، شادی اور پھر طلاق، یہ تمام واقعات بہت کم وقت میں پیش آئے، ایسی کہانیاں تو فلموں میں دکھائی جاتی ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خاتون کی درخواست خارج کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں