6

یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود،ایرانی شخصیات پرپابندیاں عائد

برسلز(ایچ آراین ڈبلیو)یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے کے الزام پر ایران سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نیوی کے ایک یونٹ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یورپی یونین کے مطابق ان افراد اور ادارے کی سرگرمیوں سے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کو مشکلات کا سامنا ہوا، جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

پابندیوں کا نشانہ بننے والی شخصیات:

محمد اکبرزادہ — IRGC نیوی کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر
حمید حسینی — ایران کی آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل برآمد کنندگان یونین کے نمائندہ

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

یورپی حکام کے مطابق یہ پابندیاں پہلی بار نئے “Freedom of Navigation” فریم ورک کے تحت نافذ کی گئی ہیں، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سمندری راستوں کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوا تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کا ردِعمل:
ایرانی حکام نے یورپی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “سیاسی اور دوہرے معیار” پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور خودمختاری کے تحفظ کا حق اس کے پاس موجود ہے۔

ممکنہ اثرات:

عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ
یورپ اور ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی
آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافہ

اپنا تبصرہ بھیجیں