17

نشتر روڈ جائیداد کیس، عدالت نے متروکہ وقف املاک بورڈ کا 2001 کا حکم کالعدم قرار دے دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نشتر روڈ پر واقع جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کا 2001 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی متاثرہ فریق کو سنے بغیر جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دینا قانون کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نشتر روڈ کی مذکورہ پراپرٹی 1959 میں خریدی گئی تھی اور مالک کی وفات کے بعد یہ جائیداد ورثا کو منتقل ہو گئی۔ ان کے مطابق ورثا کے پاس لیٹر آف ایڈمنسٹریشن بھی موجود ہے تاہم زمین کا انتقال نہیں کیا جا رہا تھا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ متعلقہ حکام کے مطابق اس جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دیا جا چکا تھا اور چیئرمین بورڈ نے متاثرہ فریق کو سنے بغیر یکطرفہ حکم جاری کیا۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 2001 کے احکامات کو 22 برس بعد چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جبکہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو جائیداد سے متعلق فیصلے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ متروکہ وقف املاک ایکٹ کے تحت جائیدادوں کے تعین کے لیے یکم جنوری 1957 کی کٹ آف تاریخ مقرر ہے، تاہم کسی بھی متاثرہ شخص کے حقوق متاثر ہونے کی صورت میں اسے سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر جاری کیا گیا فیصلہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے، اس لیے 2001 کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں