اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور خطے کے دیگر ممالک سے تقابل کے حوالے سے عوامی و سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بیانات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض ممالک میں جنگ یا عالمی کشیدگی کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جبکہ پاکستان میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان بیانات کے مطابق بھارت میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 95 روپے فی لیٹر برقرار ہے، افغانستان میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں بھی قیمتوں میں نسبتاً محدود اضافہ ہوا ہے۔
ان تقابلی اعداد و شمار کی بنیاد پربعض حلقوں کا کہنا ہےکہ اصل مسئلہ صرف عالمی منڈی یا جنگی حالات نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور عوام کو ریلیف دینے کی ترجیحات ہیں۔پاکستان میں عوامی رائے کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی کے دیگر شعبوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے آٹا، سبزیاں، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریاتِ زندگی مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اب صرف ایندھن نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرنے والا عنصر بن چکا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق قیمتوں کا تعین عالمی منڈی، ٹیکس پالیسی اور ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے، تاہم عوامی سطح پر مسلسل یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بحرانوں کا بوجھ ہمیشہ صرف عام شہریوں پر ہی ڈالنا ضروری ہے یا کہیں نہ کہیں ریلیف کی پالیسی بھی ہونی چاہیے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم قیمتوں کا اثر مجموعی مہنگائی پر فوری اور گہرا ہوتا ہے، اس لیے پائیدار پالیسی سازی انتہائی ضروری ہے تاکہ عام شہری کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


