واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین سے منسلک سولر کمپنیوں کے خلاف سخت پالیسیوں نے امریکہ میں نئی سولر فیکٹریوں کی سرمایہ کاری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔کئی بڑی امریکی سولر کمپنیاں، بینک اور انشورنس ادارے اُن امریکی سولر فیکٹریوں سے کاروبار سے گریز کررہے ہیں جن کے چین سے تعلقات موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم نصف درجن نئی امریکی سولر فیکٹریاں اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں جبکہ ان فیکٹریوں کا تعلق اُن منصوبوں سے ہے جو ابتدائی طور پر چینی کمپنیوں نے قائم کیے تھے، اس صورتحال کے باعث امریکہ کی ایک تہائی سے زائد سولر پیداواری صلاحیت خطرے میں پڑگئی ہے۔
امریکی رہائشی سولر تنصیبات کی بڑی کمپنی سنرن بھی اب چینی سپلائرز سے دوری اختیار کر رہی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے ماہر وکیل کیتھ مارٹن کے مطابق نئی پابندیوں کے باعث سولر اور بیٹری اسٹوریج منصوبوں کی مالی معاونت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی چین کو امریکی مارکیٹ سے باہر نکالنے اور گرین انرجی سبسڈیز کم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، تاہم اس کے منفی اثرات امریکی مینوفیکچرنگ، روزگار اور بجلی کی پیداوار پر بھی پڑسکتے ہیں۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث امریکہ کو تیزی سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے سولر توانائی اور بیٹری اسٹوریج سب سے تیز اور مؤثر حل سمجھے جاتے ہیں۔
امریکہ میں چھوٹے پیمانے کے یوٹیلٹی منصوبوں کی کمپنی رینیویبل پراپرٹیز کے چیف ایگزیکٹو آرون حلیمی نے خبردار کیا ہے کہ نئی پابندیاں امریکہ میں بجلی کی لاگت مزید بڑھا سکتی ہیں۔
چین اس وقت دنیا کی تقریباً 80 فیصد سولر آلات کی مینوفیکچرنگ پر کنٹرول رکھتا ہے۔ چینی کمپنیوں نے سابق صدر جوبائیڈن کے 2022 کے موسمیاتی قانون کے بعد امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔
امریکی سولر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک تقریباً 43 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان ہو چکا ہے، جس سے 48 ہزار سے زائد ملازمتوں کی توقع ہے۔
نئی قانون سازی کے تحت چینی کمپنیوں کے لیے امریکی سبسڈی حاصل کرنے والی فیکٹریوں میں ملکیت کی حد 25 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ چین کے “مؤثر کنٹرول” پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ تاحال ان قوانین پر مکمل رہنمائی جاری نہیں کر سکا، جس کے باعث صنعت میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔


