کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان کسٹمز نے دو پریونٹیو افسران، عارف علی جمانی اور سمیع اللہ اچکزئی کو ملی بھگت اور چاندی کے بسکٹوں کو سیسے سے تبدیل کرنے کے شبہ میں گرفتار کر لیا ہے۔
اس سے قبل 5 اپریل 2026 کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ضبط شدہ 688 کلوگرام چاندی پاکستان منٹ لاہور میں جمع کروانے کے لیے ایک ٹیم تعینات کی گئی تھی۔ اسی سلسلے میں دونوں افسران عارف علی جمانی اور سمیع اللہ اچکزئی کو چاندی کی محفوظ ترسیل کے لیے ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے اسٹیٹ ویئرہاؤس کوئٹہ سے 36 سیل بند ڈبوں میں پیک چاندی اپنی تحویل میں لی۔یہ ڈبے لوڈ کرکے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچائے گئے جہاں سے انہیں پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں تمام سیل بند ڈبے پاکستان منٹ لاہور پہنچائے گئے جہاں دونوں افسران اور منٹ کے عملے کی موجودگی میں انہیں کھولا گیا۔
تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ 688 کلوگرام میں سے 400 کلوگرام چاندی جعلی تھی یعنی چاندی کی بجائے سیسہ تھا۔کسٹمز انفورسمنٹ کلکٹریٹ کوئٹہ نے اس معاملے کے حقائق جاننے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی۔ تحقیقات کے دوران سیف سٹی کوئٹہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چاندی کی محفوظ ترسیل کے ذمہ دار دونوں پریونٹیو افسران نے دانستہ طور پر اصل چاندی لے جانے والی گاڑی کو ایک دوسری گاڑی سے تبدیل کیا جس میں اسی وزن کی جعلی چاندی یعنی سیسے کے بسکٹ موجود تھے۔
اس انکشاف پر دونوں افسران کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس جرم میں ملوث دیگر افراد یا اہلکاروں کی ممکنہ شمولیت کا تعین کیا جا سکے۔


