ڈاکٹر پونم جتوئی پر 30 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام، خاتون ڈاکٹر نے تمام الزامات مسترد کر دیے

**حیدرآباد، پاکستان (HRNW)** سول اسپتال حیدرآباد کی اے ایم ایس ٹریننگ، ڈاکٹر پونم جتوئی کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر 30 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی خبروں نے طبی اور سماجی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ان سنگین الزامات کے بعد محکمہ صحت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ ڈاکٹر پونم جتوئی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر سیکریٹریٹ رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر پونم جتوئی نے خاموشی توڑتے ہوئے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس سے اس معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

اپنے وضاحتی بیان میں ڈاکٹر پونم جتوئی نے دوٹوک الفاظ میں کہا، “میں ان تمام الزامات سے مکمل طور پر بری ہوں اور میں نے ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی۔” انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ وہ اس وقت باقاعدہ ایک ماہ کی سرکاری چھٹی پر ہیں اور انہیں اس مبینہ انکوائری یا الزامات کے حوالے سے پہلے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

ڈاکٹر پونم جتوئی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کسی بھی تحقیقات سے نہیں گھبراتیں: “اگر میرے خلاف کوئی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے تو میں اس کے سامنے پیش ہونے اور ہر سوال کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہوں۔ میرے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تمام ریکارڈ اور دستاویزات موجود ہیں۔” انہوں نے ان الزامات کو اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن ہے کہ وہ شفافیت، انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرے۔ کسی بھی فرد کے خلاف بلا ثبوت الزامات یا میڈیا ٹرائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)

اپنا تبصرہ بھیجیں