متحدہ عرب امارات میں تیل کے بڑے ڈپو پر ڈرون حملہ: فجیرہ کی بندرگاہ پر دھوئیں کے بادل

**فجیرہ (ایچ آراین ڈبلیو):** متحدہ عرب امارات کی تزویراتی طور پر انتہائی اہم بندرگاہ **فجیرہ** میں تیل ذخیرہ کرنے والے ایک بڑے ڈپو پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک بیک کے مطابق، یہ مقام مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل اور بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے (Bunkering) کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

فجیرہ کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کے بجائے **خلیج عمان** کی حدود میں واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں سے تیل کی ترسیل کے لیے بحری جہازوں کو **آبنائے ہرمز** سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال کے باعث عملی طور پر آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے، جس کی وجہ سے فجیرہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اس آئل کمپلیکس سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ روز ہی ایرانی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے قریب رہنے والے سویلینز کو ان مقامات سے دور رہنے کی وارننگ جاری کی تھی۔ اس حملے کے بعد خطے میں توانائی کی سپلائی لائنز کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آراین ڈبلیو پر ہم حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں شفاف اور بے باک صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر ہماری حمایت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں