**دبئی/تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تیسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہریوں اور وہاں مقیم غیر ملکیوں کے لیے ایک سنگین وارننگ جاری کی ہے۔ ایرانی حکام اور تہران یونیورسٹی کے پروفیسر سید محمد مرندی کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہیں، جن میں جبل علی (دبئی)، خلیفہ پورٹ (ابوظہبی) اور فجیرہ شامل ہیں، اب ایرانی فورسز کے ’جائز اہداف‘ ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں اور امریکی فوجی تنصیبات کے قریب موجود سویلین انفراسٹرکچر سے فوری طور پر دور ہو جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ایران کی جانب سے یہ دھمکی تہران کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ نے ایران کے اہم ترین آئل ٹرمینل، جزیرہ خارگ (Kharg Island) پر حملوں کے لیے یو اے ای کی سرزمین اور بندرگاہوں کو استعمال کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں اور اس بار نشانہ وہ بندرگاہیں ہوں گی جہاں امریکی اثاثے موجود ہیں۔ دوسری جانب، یو اے ای کی وزارت دفاع نے آج ہی 9 بیلسٹک میزائلوں اور 33 ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم فجیرہ پورٹ پر گرنے والے ملبے سے آگ بھڑکنے کے باعث کچھ آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ عالمی منڈی میں اس کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ خلیج میں بحری آمدورفت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
—
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آراین ڈبلیو پر ہم حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں شفاف اور بے باک صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر ہماری حمایت کریں۔


