کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) رمضان المبارک کے دوران بھی کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ جمشید روڈ کے قریب چند روز قبل دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ڈاکوؤں نے ایک شہری سے موبائل فون، نقدی اور ہنڈا 70 موٹر سائیکل (نمبر KTS-6380) چھین لی تھی۔ اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی، تاہم پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
افسوسناک طور پر چھ روز بعد اسی مقام پر ڈاکوؤں نے ایک اور شہری کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ صلاح شیخ کے نام سے ہوئی، جسے تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
صلاح شیخ کے قتل کی خبر سامنے آنے کے باوجود جمشید تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف تاحال کسی قسم کی محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ علاقہ مکینوں اور شہریوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پہلی واردات کے بعد بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید آج ایک قیمتی جان بچ سکتی تھی۔
شہری حلقوں نے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری اقدامات کرے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو تحفظ کا احساس مل سکے۔


