کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ادارہ ترقیات کراچی محکمہ لینڈاورریکوریز کی جعلساز مافیا کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ،کے ڈی اے افسران کیخلاف بڑی کارروائی کی تیاریاں کرلی گئیں،وزیربلدیات اورڈی جی کی رٹ چیلنج کرنےوالےافسران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کے ساتھ کیسز اعلی تحقیقاتی اداروں کوبھیجےجائینگے،وزیربلدیات سندھ نےڈی جی کوکارروائی کیلئےگرین سگنل دیدیا،پانچ قیمتی پلاٹوں کومبینہ جعلسازی سےٹھکانےلگانےپر بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاسکا،انکوائری کمیٹی ایک ماہ سے زائد عرصے سے افسران کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی،نہ کوئی افسر بیان ریکارڈ کرانے آیا اور نہ ہی پلاٹوں کا ریکارڈ فراہم کیا جاسکا،کمیٹی نے کارروائی کیلئے سفارشات ڈی جی کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی محکمہ لینڈ اورریکوریز سمیت محکمہ ڈی پی اینڈ یو ڈی ،ریکارڈ روم اور محکمہ آئی ٹی میں موجود لینڈ اورریکوریز کے سہولت کار افسران کے گرد گھیرا تگ کرکے انہیں بے نقاب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے نے ایک ماہ قبل گلستان جوہر اسکیم36 کے دو پلاٹ جس میں پلاٹ نمبرB-70 بلاک6،پلاٹ نمبرA-104 بلاک6،کورنگی ٹائون شپ کے دو پلاٹ جس میں پلاٹ نمبرN-75 اور N-46 سیکٹر 44-B جبکہ فیڈرل بی ایریا کےپلاٹ نمبرBS-57 بلاک7اسکیم16کےپلاٹوں کومبینہ جعلسازی سے ٹھکانے لگائے جانے پر وزیر بلدیات سندھ کی منظوری سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس پر جعلساز مافیا میں زبردست کھلبلی مچ گئی تھی تاہم محکمہ لینڈ کے افسران نے جعلسازی کا بھانڈا پھوٹنےاورملوث افسران کےبے نقاب ہونے سے قبل مذکورہ پانچ پلاٹوں میں سے چار پلاٹوں کی ٹرانزیکشن منسوخ کرنے کا لیٹر جاری کردیا جبکہ گلستان جوہر کے ایک پلاٹ جس کا نمبرB-70 بلاک6 ہے اسے تاحال منسوخ نہیں کیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ 400 گز رقبے کے مذکورہ پلاٹ کو منسوخی سے بچانے کیلئے جعلساز مافیا مختلف حربے استعمال کررہی ہے،دوسری طرف ڈی جی کے ڈی اے کی جانب سے پلاٹوں کی جعلسازی میں ملوث افسران کو بے نقاب کرنے کیلئے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود متعلقہ افسران کی جانب سے تاحا ل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے اور نہ کسی افسر نے کمیٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس کے باعث وزیر بلدیات اور ڈی جی کی رٹ کو محکمہ لینڈ ، ریکوریز اور ڈی پی اینڈ یو ڈی کے افسران نے چیلنج کردیا ہے،تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی جانب سے فائنل لیٹر 3 مارچ کو جاری کیا گیا اور افسران کو 5 مارچ کو ریکارڈ سمیت حاضر ہونے کا فائنل نوٹس جاری کیا گیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران نے انکوائری کمیٹی کے مذکورہ طلبی کے لیٹر کو بھی پھاڑ کر ہوا میں اڑادیا جس کے بعد کمیٹی نے متعلقہ افسران کیخلاف کارروائی کیلئے سفارشات ڈی جی کے ڈی اے کو بھیجنے کافیصلہ کرلیا ہے اور متعلقہ افسران کیخلاف جلد بڑی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات سندھ نے بھی اس حوالے سے ڈی جی کو گرین سگنل دیدیا ہے اور جعلساز مافیا کو بے نقاب کرنے کیلئے ان کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ کیسز بناکر اعلی تحقیقاتی اداروں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لینڈ ،ریکوریز اور محکمہ ڈی پی اینڈ یو ڈی میں موجود جعلساز مافیا کو کے ڈی اے کے اہم عہدوں پر موجود افسران کی مبینہ طور پر سرپرستی حاصل ہے جو انہیں کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سپورٹ کررہے ہیں تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی جی کے ڈی اے کمیٹی کی فائنل رپورٹ کے بعد ملوث افسران کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرچکے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلساز مافیا کو عبرت کا نشان نہ بنایا گیا تو کراچی کے شہریوں کی جائیدادیں غیر محفوظ ہوجائینگی


