پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: FIA کے مبہم نوٹسز غیر قانونی قرار، شہریوں کے حقوق کی مضبوطی

پشاور(ایچ آراین ڈبلیو)پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی جانب سے جاری کردہ غیر واضح اور مبہم نوٹسز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہریوں کے حق میں تاریخی ریمارکس جاری کیے ہیں۔

اہم عدالتی مشاہدات:

نوٹس کا کالعدم ہونا: عدالت نے ایک خاتون کو جاری کیا گیا سیکشن 160 Cr.P.C کا نوٹس بدنیتی پر مبنی قرار دے کر ختم کر دیا۔

علاقائی دائرہ اختیار (Jurisdiction): عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی وفاقی ادارے کی کارروائی سے شہری پر کسی صوبے میں اثر پڑتا ہے، تو وہ اسی صوبے کی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کر سکتا ہے، شہریوں کو دوسرے شہروں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں۔

قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی: عدالت نے کہا کہ FIA قانون سے بالاتر نہیں؛ کسی بھی نوٹس میں جرم کی نوعیت اور تفصیلات کا ہونا لازمی ہے۔ مبہم نوٹس محض ہراساں کرنے کا ذریعہ ہیں۔

قانون کی بالادستی:
عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ آئین کا آرٹیکل 199 شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر FIA نوٹس میں بنیادی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو اسے اختیارات کا ناجائز استعمال تصور کیا جائے گا۔

عدالتی ریمارکس:
“ادارے کا دفتر کسی بھی شہر میں ہو، شہری اپنی رہائش گاہ کے قریبی عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں