ون کانسٹیٹیوشن ایونیو: قانون کی بے بسی اور اشرافیہ کا تحفظ

**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو):** اسلام آباد کے قلب میں واقع “ون کانسٹیٹیوشن ایونیو” نامی بلند و بالا عمارت ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک عمارت کی تعمیر کا نہیں بلکہ پاکستان کے دوہرے نظامِ انصاف، انتظامی ملی بھگت اور “اشرافیہ کے گٹھ جوڑ” کی ایک جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔

### **ملکیت اور عدالتی ریلیف کی کہانی**
اس عمارت کے مالک فیصل آباد کے معروف صنعتکار اور ‘بسم اللہ ٹیکسٹائل’ کے سربراہ **شیخ عبدالحفیظ پاشا** ہیں۔ ابتدا میں اس پراجیکٹ میں تین حصہ دار تھے، تاہم بعد میں شیخ صاحب تنہا مالک بن گئے۔
* **پہلا ریلیف:** جسٹس اعجاز الاحسن اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر مشتمل بینچ نے 17 ارب روپے سی ڈی اے (CDA) کو جمع کرانے کے عوض اس غیر قانونی تعمیر کو قانونی قرار دیا تھا۔
* **پیمنٹ میں ناکامی:** شیخ پاشا محض سوا دو ارب روپے جمع کرا سکے اور بقیہ رقم کی ادائیگی سے معذرت کر لی، جس کے بعد یہ معاملہ سالہا سال تک عدالت اور انتظامیہ کے درمیان لٹکا رہا۔

### **اشرافیہ ایک چھت تلے: کون کون شامل ہے؟**
اس عمارت کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پاکستان کی طاقتور ترین شخصیات کے اپارٹمنٹس موجود ہیں۔ یہاں سیاستدان، جج، بیوروکریٹس، صحافی اور سابق فوجی افسران ایک ہی چھت تلے رہائش پذیر ہیں۔ مالکان کی فہرست میں شامل چند نمایاں نام یہ ہیں:
* **سیاستدان:** عمران خان، حماد اظہر، شاندانہ گلزار، برجیس طاہر، کشمالہ طارق، جام کمال خان، اور ناصر الملک۔
* **ججز و بیوروکریٹس:** جسٹس ریٹائرڈ اعجاز الاحسن، ثاقب نثار، سابق فارن سیکرٹری سلمان بشیر، اور سابق آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر۔
* **دیگر:** سابق نیول چیف آصف سندھیلہ، کرکٹر شعیب اختر، سابق چیئرمین پی سی بی احسان مانی، اینکر پرسن نسیم زہرہ اور ابصار عالم۔

### **کمیٹی کلچر اور قانون کی عملداری پر سوال**
حالیہ عدالتی حکم کے بعد جب کارروائی کی توقع کی جا رہی تھی، وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیس اور سی ڈی اے کو روک کر ایک نئی **”کمیٹی”** تشکیل دے دی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان میں کمیٹی کا مطلب معاملے کو طویل التواء کا شکار کرنا ہوتا ہے۔

**اہم سوالات جو جواب طلب ہیں:**
1. **دوہرا معیار کیوں؟** اگر کراچی کا **نسلہ ٹاور** چند دنوں میں گرایا جا سکتا ہے، تو ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو برسوں تک رعایت کیوں دی جا رہی ہے؟
2. **ادارے کہاں تھے؟** 2005 میں صرف ہوٹل کی لیز دی گئی تھی، وہاں مکمل رہائشی کمپلیکس بن گیا، سی ڈی اے کو ایک دہائی بعد کیوں ہوش آیا؟
3. **اصل ذمہ دار کون؟** کیا کبھی بلڈر شیخ عبدالحفیظ پاشا سے اس خلاف ورزی پر باز پرس کی گئی؟

عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب تک قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں نہیں ہوگا، نظام پر بھروسہ بحال ہونا ناممکن ہے۔ جہاں غریب کی جھونپڑی پر بلڈوزر چلنے میں دیر نہیں لگتی، وہاں اشرافیہ کے عالی شان فلیٹس کے گرد تحفظ کی باڑیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

> **انسانی حقوق کی آواز بنیں:**
> عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور سچائی کا ساتھ دینے کے لیے **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
> **مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں