کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ہنگامی حالات میں ایمرجنسی سروسز کی ذمہ داری کے حوالے سے قانونی رائے پیش کی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت ہنگامی ریسکیو آپریشن کی بنیادی ذمہ داری سندھ ریسکیو سروس پر عائد ہوتی ہے، جبکہ سٹی اور ڈسٹرکٹ حکومتیں صرف معاون اور رابطہ کاری کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 کے تحت مرکزی ہنگامی رسپانس سسٹم قائم کیا گیا ہے، جو پورے صوبے میں ریسکیو اور ایمرجنسی خدمات انجام دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
یہ سسٹم آتشزدگی، قدرتی آفات، ٹریفک حادثات، عمارتوں کے منہدم ہونے اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کے لیے فعال ہے۔
سندھ ایمرجنسی کونسل سروس کی نگرانی اور پالیسی سازی کرتی ہے اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈز تشکیل دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ ریسکیو سروس کا تقرر حکومت سندھ کرتی ہے اور وہ ادارے کی انتظامی و آپریشنل ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔
ریسکیو آپریشن کی کمانڈ سسٹم سندھ ایمرجنسی کونسل سے شروع ہو کر ڈائریکٹر جنرل اور ضلعی یونٹس تک جاتی ہے۔ ضلعی دفاتر صوبائی فیلڈ یونٹس کے طور پر فوری کارروائی کر سکتے ہیں۔
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی اداروں کو شہری خدمات اور فائر فائٹنگ جیسی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی، لیکن یہ سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 کے تحت ہنگامی آپریشن میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
شہری اور ضلعی حکومتیں صرف لاجسٹک اور انتظامی معاونت فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ بنیادی آپریشنل کمانڈ صرف سندھ ریسکیو سروس کے پاس ہوگی۔
قانون کا مقصد دیگر اداروں کو ان کی قانونی ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دینا نہیں، بلکہ ہنگامی حالات میں مؤثر اور فوری ردعمل یقینی بنانا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے زور دیا کہ سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 صوبے میں دیگر قوانین کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ نافذ العمل رہے گا اور ہنگامی ریسکیو آپریشن کی ذمہ داری میں کوئی ابہام نہیں۔


