لاپتہ خاتون اور بچے کے کیس، سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کی رپورٹ مسترد کردی

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ حیدرآباد میں آئینی درخواست C.P No. D-592/2026 کی سماعت کے دوران لاپتہ خاتون اور 14 سالہ بچے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے شہید بینظیر آباد پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے معاملے کو سنگین قرار دیا ہے۔
سماعت کے دوران پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ لاپتہ خاتون نسرین اختر اور 14 سالہ علی شیر کو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے بس سے اتار کر اپنے ساتھ لے جایا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے کیس کی پیروی ساجد زمان ایڈوکیٹ نے کی، جن کی مسلسل قانونی کاوشوں کے نتیجے میں اہم حقائق سامنے آئے۔
درخواست کے مطابق 15 مارچ 2026 کو علی شیر ولد فلک شیر اور اس کی نانی نسرین اختر، وادیچ ایکسپریس کے ذریعے حیدرآباد سے فیصل آباد جا رہے تھے کہ سکرنڈ، نواب شاہ پل کے قریب پولیس اہلکاروں نے بس روک کر دونوں کو اپنے ساتھ لے لیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
لاپتہ خاتون کے بیٹے رضا حسنین نے اپنی والدہ اور بھانجے کی بازیابی کے لیے آئینی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے 7 اپریل 2026 کو حیدرآباد پولیس اور شہید بینظیر آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔
6 مئی 2026 کو سماعت کے دوران ایس ایس پی حیدرآباد کی جانب سے جمع کرائی گئی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ڈی پی او چھلگری نے بس ڈرائیور، منیجر اور فوکل پرسن کے بیانات قلمبند کیے۔ رپورٹ کے مطابق بس ایک پولیس چوکی پر روکی گئی جہاں سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص 3 سے 4 یونیفارم میں ملبوس پولیس اہلکاروں کے ساتھ بس میں داخل ہوا۔ اس شخص نے خود کو “پولیس انسپکٹر سعید” ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خاتون نے بچے کو اغوا کیا ہے، تاہم خاتون نے بتایا کہ علی شیر اس کا نواسہ ہے۔ بعد ازاں دونوں کو پولیس موبائل میں منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں لاپتگی کے مقام اور طریقہ کار سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ عدالت نے ایس ایس پی حیدرآباد اور ایس ڈی پی او چھلگری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے شہید بینظیر آباد پولیس کی وہ رپورٹ مسترد کردی جس میں واقعے سے لاعلمی ظاہر کی گئی تھی۔
عدالت نے ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد کو ہدایت کی ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے ایک ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے اور 9 جون 2026 کو پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ قانونی حلقوں کے مطابق ساجد زمان ایڈوکیٹ کی مسلسل عدالتی پیروی کے باعث کیس میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوئی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت کی نگرانی میں خاتون اور بچے کی جلد بازیابی ممکن ہو سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں