سماجی کارکن عبدالقادر میمن کی دو مقدمات میں ضمانت منظور، رہائی کا امکان

**کراچی، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** سیشن جج جنوبی کی عدالت نے 16 فروری 2026 کو سماجی کارکن عبدالقادر میمن کی تھانہ گارڈن میں درج دو مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔ ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کرا دیے گئے ہیں اور روبکار جاری کر دی گئی ہے، جس کے بعد آج ان کی رہائی کا امکان ہے۔ ان مقدمات کی پیروی سلمان مجاہد بلوچ ایڈوکیٹ نے کی۔

یاد رہے کہ 9 فروری 2026 کو تھانہ گارڈن میں سب انسپکٹر کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 39/2026 درج کیا گیا تھا، جس میں عبدالقادر میمن اور ان کے دو ساتھیوں نو ویان اور کاوش پر کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا۔ وکیلِ صفائی سلمان مجاہد بلوچ کے مطابق یہ مقدمہ بے بنیاد ہے۔

اسی کے ساتھ عبدالقادر میمن کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ تاہم دفاعی وکیل کے مطابق جس پستول کو ظاہر کیا گیا اس کا باقاعدہ لائسنس قادر میمن کے نام ہے، جو تھانہ گارڈن کے ایس ایچ او کو پیش بھی کیا گیا، اس کے باوجود مقدمہ قائم کیا گیا۔

10 فروری کو عبدالقادر میمن اور ان کے دونوں ساتھیوں کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں جیل کسٹڈی بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں 11 فروری کو ان کی ضمانت کی درخواستیں سیشن عدالت جنوبی میں دائر کی گئیں، جنہیں ایڈیشنل سیشن جج نمبر 10 کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔

13 فروری کو ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں سلمان مجاہد بلوچ ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں مقدمات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں اور یہ کارروائیاں گارڈن کے مظلوم عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی پاداش میں کی گئیں۔

14 فروری 2026 کو سیشن عدالت نمبر 10 جنوبی نے دوپہر ایک بجے فیصلہ سناتے ہوئے تینوں ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں۔ 16 فروری کو ضمانتی مچلکے جمع ہونے کے بعد عدالت نے ریلیز آرڈر جاری کر دیے جو سینٹرل جیل حکام کو بھجوا دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ قادر میمن نے مبینہ ڈمپر مافیا کے خلاف بھی اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے، جسے سلمان مجاہد بلوچ ایڈوکیٹ نے سیشن عدالت سے انسداد دہشت گردی عدالت میں منتقل کروایا تھا۔

**آزاد اور ذمہ دار انسانی حقوق صحافت کی حمایت کریں۔**
ہماری آواز مضبوط بنانے کے لیے وزٹ کریں: hrnww.com/support-us

اپنا تبصرہ بھیجیں