اگر وہ عظیم خاتون ایٹمی سائنسدان زندہ رہتیں یا انہیں زندہ رہنے دیا جاتا تو دنیا، بالخصوص مسلم دنیا، تین بڑے انقلابی مراحل سے گزر سکتی تھی۔ ماہرین اور قریبی حلقوں کے مطابق سب سے پہلے مسلم دنیا میں ایٹمی دفاع کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور مضبوط بنیاد سامنے آتی، جو خطے کے تزویراتی توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی تھی۔
دوسرے مرحلے میں ایٹمی تحقیق کو انسانیت کی فلاح کے لیے بروئے کار لا کر طب کی تاریخ کو ایک نیا رخ دیا جاتا، جبکہ تیسری اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہو سکتی تھی کہ کینسر جیسے موذی مرض کا علاج نہایت کم خرچ، حتیٰ کہ ایک اسپرین کی گولی کے برابر لاگت میں ممکن ہو جاتا۔
قریبی ذرائع کے مطابق اس سائنسدان کی والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہیں اور اسی بیماری کے باعث وفات پا گئیں، جس کے بعد انہوں نے یہ عزم کر لیا تھا کہ وہ کسی اور ماں کو اس طرح بے بسی کی موت مرتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ یہی جذبہ ان کی سائنسی جدوجہد اور تحقیق کا بنیادی محرک بنا۔
انہیں تاریخ میں پہلی خاتون ایٹمی سائنسدان ہونے کا اعزاز حاصل تھا، جبکہ وہ پہلی مسلمان خاتون سائنسدان بھی تھیں جنہوں نے ایٹمی تحقیق کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی سائنسی صلاحیتوں اور تحقیق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، یہاں تک کہ امریکہ نے انہیں اپنے ایٹمی پروگرام کے دورے کی باضابطہ دعوت دی، جو اس اعتبار سے بھی ایک بڑا اعزاز تھا کہ وہ اس شعبے میں مدعو کی جانے والی پہلی غیر ملکی سائنسدان تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے منصوبوں کو مکمل ہونے کا موقع ملتا تو نہ صرف سائنسی دنیا بلکہ پوری انسانیت اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکتی تھی، تاہم تاریخ کے بعض فیصلوں نے ایک عظیم خواب کو ادھورا ہی چھوڑ دیا۔


