کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ چند دن پہلے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کراچی آئے، جس کی اطلاع ملتے ہی سندھ حکومت نے ان سے رابطہ کیا اور سکیورٹی و سہولیات کی مکمل یقین دہانی کروائی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس سے پہلے تھریٹ الرٹ بھی موصول ہوا تھا، تاہم اسے عام نہیں کیا گیا تاکہ کوئی اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطے بھی ہوئے اور بیلے اچھے ماحول میں گفتگو جاری رہی۔ سندھ کے وزیر اور سینئر رہنما سعید غنی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا استقبال کیا۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ پہلے دن بات چیت کے دوران یہ طے پایا کہ کچھ علاقوں میں جانے کی اجازت ہوگی جبکہ کچھ علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث جانے سے روک دیا گیا۔ دوسرے دن وزیر اعلیٰ نے حیدرآباد کا دورہ کیا جہاں روٹ پر ایک پل پر دشواری کا سامنا ہوا اور وہ کچھ گھنٹے ٹریفک میں پھنس گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سے حکومت سندھ کو کیا فائدہ ہوا؟
انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت پہلے زبانی طور پر دی گئی تھی، مگر بعد میں بیان آیا کہ جلسہ باغ جناح میں نہیں بلکہ سڑک پر کیا جائے گا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات دہرائے جانے کی کوشش کی گئی، پولیس پر پتھراؤ ہوا اور صحافیوں، خصوصاً خاتون صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن حکومت نے صبر و تحمل سے کام لیا اور مقدمات درج نہیں کیے۔
وزیر نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان اور اداروں کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں، حالانکہ سندھ حکومت نے دل سے مہمان نوازی کی اور عزت دی۔ ان کے بقول، انتظامیہ کی ہدایات کے برخلاف مخصوص روٹس اختیار کیے گئے اور وہی راستے استعمال کیے گئے جن پر پابندی تھی۔
شرجیل انعام میمن نے سابقہ دور حکومت کے دوران طالبان رہنماؤں کی رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سزا یافتہ افراد کو قانونی طریقہ کار کے بغیر رہا کروایا گیا، اور اب اس عزت کو ابیوز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت الزام تراشی، جھوٹ اور گالم گلوچ پر مبنی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے اور اس رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔


