کیا پی آئی اے 10 ارب میں دے دی گئی؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

پی آئی اے صرف ایک ائیرلائن نہیں، یہ پاکستان کی پہچان، وقار اور تاریخ کا ایک زندہ باب رہی ہے۔ وہ ادارہ جس نے ایشیا کو ہوابازی کے جدید اصول سکھائے، آج خود اس مقام پر لا کھڑا کیا گیا ہے جہاں اس کی قیمت چند اعداد و شمار میں سمیٹ دی گئی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ پی آئی اے 135 ارب روپے میں فروخت ہو گئی، مگر جب اس سودے کے اصل خدوخال سامنے آتے ہیں تو یہ فروخت نہیں بلکہ ایک تلخ سوال بن جاتی ہے۔ اس 135 ارب میں سے حکومت کو صرف 10 ارب روپے نقد مل رہے ہیں، جبکہ باقی رقم سرمایہ کاری کے وعدوں کی شکل میں ہے۔ یعنی کنٹرول، گورننگ اور فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا گیا، مگر قیمت پوری ادا ہی نہیں کی گئی۔

آج پی آئی اے کے پاس تقریباً 32 سے 34 جہاز موجود ہیں، جن میں بوئنگ 777، ایئربس A320 اور ATR طیارے شامل ہیں۔ اگر عالمی مارکیٹ ویلیو کو مدنظر رکھا جائے تو ایک بوئنگ 777 طیارے کی موجودہ مارکیٹ قیمت، عمر اور کنڈیشن کے لحاظ سے، تقریباً 25 سے 40 ملین ڈالر بنتی ہے۔ پی آئی اے کے بیڑے میں موجود 777 طیاروں کی مجموعی قدر ہی تقریباً 200 سے 250 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح ایئربس A320 اور ATR طیاروں کی مجموعی قیمت کو شامل کیا جائے تو صرف جہازوں کی مالیت محتاط اندازے کے مطابق 300 سے 350 ارب روپے بنتی ہے، چاہے ان میں سے کچھ طیارے گراؤنڈڈ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا ذکر نجکاری کے بیانیے میں شاذ و نادر ہی سننے کو ملتا ہے۔

اور جہاز ہی سب کچھ نہیں۔ پی آئی اے کے پاس قیمتی بین الاقوامی روٹس، لینڈنگ رائٹس، تربیت یافتہ پائلٹس اور انجینئرز، ٹریننگ سینٹرز، ہینگرز، اور پاکستان بھر میں پھیلا ہوا انفراسٹرکچر موجود ہے۔ اس کے علاوہ وہ غیر ہوائی اثاثے ہیں جنہیں اکثر خاموشی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نیویارک کے دل میں واقع روزویلٹ ہوٹل، جو ایک پورے بلاک پر محیط ہے، ماہرین کے مطابق کم از کم ایک ارب ڈالر یعنی تقریباً 280 ارب روپے کی مالیت رکھتا ہے۔ پیرس کا سکرائب ہوٹل بھی پی آئی اے کی ملکیت ہے، جو یورپ کے مہنگے ترین علاقوں میں واقع ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ صرف ان دونوں ہوٹلوں کی مالیت ہی اس رقم سے کہیں زیادہ بنتی ہے جس پر پوری ائیرلائن فروخت کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ پی آئی اے خسارے میں تھی، اس لیے فروخت ناگزیر تھی۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس خسارے کی اصل وجہ کیا تھی۔ دہائیوں تک سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں، ادارے کو روزگار اسکیم بنانا، میرٹ کی پامالی، ناقص فیصلے اور مسلسل حکومتی مداخلت — ان تمام عوامل نے پی آئی اے کو کمزور کیا۔ یہ ناکامی ادارے کی نہیں تھی، یہ گورننس کی ناکامی تھی۔ مگر سزا ادارے کو نہیں، بلکہ قوم کو دی جا رہی ہے۔

سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ پی آئی اے پر واجب الادا سینکڑوں ارب روپے کا قرض نیا خریدار ادا نہیں کرے گا۔ یہ قرض حکومت پاکستان نے اپنے ذمے لے لیا ہے، یعنی یہ بوجھ براہِ راست عوام ادا کریں گے۔ یوں ایک طرف اثاثے، جہاز، روٹس اور کنٹرول نجی کنسورشیم کے پاس جا رہے ہیں، اور دوسری طرف قرض، پنشن، واجبات اور خسارہ عوام کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ منافع نجی ہاتھوں میں اور نقصان ریاست کے ذمے — کیا یہی منصفانہ نجکاری ہے؟

اگر تمام حقائق کو یکجا کیا جائے تو تصویر چونکا دینے والی ہے۔ صرف جہازوں کی محتاط قیمت 300 سے 350 ارب روپے، روزویلٹ اور سکرائب ہوٹل کم از کم 300 ارب روپے، دیگر اثاثے، روٹس اور انفراسٹرکچر اس کے علاوہ۔ یوں پی آئی اے کی مجموعی حقیقی قدر آسانی سے 600 سے 700 ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں 135 ارب روپے کا وہ معاہدہ، جس میں صرف 10 ارب روپے نقد ادا کیے جائیں اور باقی سرمایہ کاری کے وعدے ہوں، کسی بھی مالی منطق سے انصاف کے قریب نہیں لگتا۔

آخر میں سوال نہایت سادہ مگر انتہائی وزنی ہے: کیا ایک ایسا سودا، جس میں اثاثے سینکڑوں ارب کے ہوں، کنٹرول فوراً دے دیا جائے، قرض عوام کے سر ڈال دیا جائے، اور قیمت صرف 10 ارب نقد ہو — کیا واقعی خسارے کا سودا نہیں؟ اگر یہ خسارہ نہیں تو پھر قومی نقصان کی تعریف کیا ہے؟ یہ سوال آج نہیں تو کل تاریخ ضرور پوچھے گی۔

ساتھ ہی ساتھ آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پی آئی اے کی کامیاب بولی دہندہ عارف حبیب کنسورشیم میں کون کون شامل ہیں‌
عارف حبیب کارپوریشن گروپ اس کنسورشیم کا لیڈر ہے
پھر فاطمہ فرٹیلائزر، ملک بھر میں پھیلے ہوئے ایلیٹ کلاس سٹی اسکول نیٹ ورک، لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، اس کے علاوہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی جیسے بڑے گروپ بھی مبینہ طور پر شامل ہو رہے ہیں

جبکہ 134 ارب روپے کی بولی دینے والا مخالف گروپ لکی سیمینٹ گروپ کنسورشیم تھا جو ایک ارب کی کمی سے بولی نہیں جیت سکا

حکومت نے دنیا کو شفافیت دکھانے کے لئے کھلی نیلامی رکھی لیکن اس کے پردہ میں کیا معاملات تھے، سیاسی ادراک رکھنے والوں‌ کو اسے سمجھنا چنداں مشکل نہیں

بہرکیف پاکستان آج اپنے ایک ایسے اثاثے سے محروم ہو گیا، جسے صرف سخت گورننس کے ذریعے منافع بخش بنایا جا سکتا تھا لیکن یہی بہانہ بنا کر اسے فروخت کر دیا گیا جس سے واضح پیغام یہی ہے کہ ہم سب کچھ بیچ سکتے ہیں لیکن گورننس بہتر نہیں کر سکتے

اپنا تبصرہ بھیجیں