یہ ہے کراچی… وہ شہر جو دن رات محنت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، زندگی بناتا ہے۔ مگر آج ایک بار پھر اس شہر نے ایک ایسا زخم کھایا ہے جس نے ہر دل کو ہلا دیا ہے۔
نیپا چورنگی پر تین سالہ معصوم ابراہیم کھلے گٹر میں گر کر زندگی کی سانسیں ہار گیا — اور یہ حادثہ نہیں تھا… یہ غفلت کا قتل تھا۔ سندھ حکومت کی نالائقی اور بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ بے حسی نے ایک اور ماں کی گود اجاڑ دی۔
گھنٹوں تک نہ کوئی وزیر آیا، نہ کوئی افسر، نہ کوئی ریسکیو ٹیم دکھائی دی۔ علاقے کے لوگ چیختے رہے، پکارتے رہے کہ کوئی آئے، مگر حکومت کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ تین گھنٹے… پھر چھ گھنٹے… پھر بارہ… اور آخرکار **کھربوں روپے کے بجٹ رکھنے والی سندھ حکومت** نہیں بلکہ **ایک کچرا چننے والے لڑکے** نے ابراہیم کی لاش تلاش کی۔
ذرا سوچئے… اس شہر کی حفاظت کے ذمہ دار کون ہیں؟ حکومت؟ بلدیہ؟ انتظامیہ؟
نہیں!
یہ شہر تو عوام کے بھروسے پر چل رہا ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت۔
اور دکھ کی انتہا تو یہ ہے کہ جب پولیس اہلکار اس کچرا چننے والے لڑکے تک پہنچے، تو اس بچے کو تھپڑ مارے گئے، اس سے تفتیش کی گئی، جیسے وہ مجرم ہو — اور پھر لاش لے جا کر کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
کراچی کے لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں:
“حکومت سو رہی ہے!”
“سڑکیں تباہ، گٹر کھلے، شہر خطرے میں اور حکمران خوابِ خرگوش میں!”
“بلاول بھٹو کو کراچی کا درد نظر ہی نہیں آتا… صرف تقریریں اور دعوے!”
آج کراچی کے ٹاپ ٹرینڈز میں “قاتل مئیر” چل رہا ہے، مگر دوسری طرف پیپلز پارٹی کے وزراء بڑے فخر سے اعلان کر رہے ہیں کہ وہ قیامت تک سندھ پر مسلط رہیں گے۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ملک کے طاقتور حلقے بھی ان کو مکمل سرپرستی فراہم کر رہے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے…
مزید کتنے ابراہیم چاہئیں؟
مزید کتنی لاشیں؟
مزید کتنی ماؤں کی گودیں اجڑیں گی کہ حکومت جاگے؟
کراچی کے عوام کا مطالبہ بالکل واضح ہے:
کھلے مین ہولز فوراً بند کیے جائیں۔
اس حادثے کے ذمہ دار ہر افسر کو ہٹایا جائے۔
کچرا چننے والے اس ہیرو بچے کو پوری سرکاری کفالت دی جائے — تعلیم بھی، روزگار بھی۔
اور سب سے بڑھ کر، کراچی کو تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے۔
یہ شہر اب مزید لاپرواہی برداشت نہیں کر سکتا۔
آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل پھر کسی گھر سے ایک اور ابراہیم اٹھے گا — اور اس کا قاتل صرف اور صرف **حکومتِ سندھ** ہوگی۔
اگر آپ چاہیں کہ کراچی بدلے…
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی اور بچہ اپنی جان نہ ہارے…
تو آواز اٹھائیں… اسے کمزور نہ پڑنے دیں۔
یہ صرف ایک خبر نہیں — یہ ایک جنگ ہے۔
انسانیت کی جنگ۔
کراچی کی جنگ۔


