دنیا ہر سال **10 دسمبر** کو انسانی حقوق کا عالمی دن مناتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونے کے ناطے ہم سب برابر ہیں۔ کسی پر ظلم نہ ہو، کسی کی آواز نہ دبے، کسی کا ووٹ نہ چھینا جائے، کسی کی آزادی نہ روکی جائے—یہ سب ایک مہذب سماج کی بنیادی شرائط ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ **پاکستان اس دن کو کیسے مناتا ہے؟**
کیا ہم واقعی خود کو یقین دلا چکے ہیں کہ یہاں انسانی حقوق کی صورتحال تسلی بخش ہے؟ شاید نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ریاستی اور سماجی کمزوریاں اس دن کو ایک آئینہ بنا دیتی ہیں، جس میں جھانکنے سے ہم کتراتے ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی رپورٹیں سالہا سال سے ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں—جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں، سیاسی انتقام، کمزور انصاف، پولیس گردی، جیلوں کی خراب صورتحال، خواتین اور اقلیتوں کے مسائل، اور سب سے بڑھ کر **انتخابی عمل میں مداخلت**۔
یہ مسئلہ صرف سیاست کا نہیں، بلکہ براہِ راست انسانی حقوق کا ہے۔ کیونکہ جب عوامی مینڈیٹ کو انجینئرڈ طریقے سے محدود کر دیا جائے، جب فیصلے عوام کے ہاتھ میں نہ رہیں، جب ووٹ کی طاقت کمزور ہو جائے، تو پھر شہری کے بنیادی انسانی حقوق بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اسی لیے یہ سوال بار بار ابھرتا ہے:
**کیا ہمیں بحیثیت قوم اس دن کو اتنی ڈھٹائی سے مناتے ہوئے شرم نہیں آنی چاہیے؟**
ہماری حکومتیں ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔ کاغذوں میں پالیسیاں ہیں، کمیشن ہیں، رپورٹس ہیں۔ مگر عام آدمی کی زندگی میں یہ سب کہاں نظر آتا ہے؟ اسے نہ انصاف ملتا ہے، نہ تحفظ، نہ عزت، اور نہ ہی وہ آزادی جس کا وعدہ آئین کرتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے انہیں نظر انداز کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم سچ بولیں گے تو شاید ملک کمزور ہو جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ **ملک سچ سے نہیں، ناانصافی سے کمزور ہوتا ہے۔**
قومیں طاقت سے نہیں، *انصاف اور آزادی* سے مضبوط ہوتی ہیں۔
پاکستانی قوم کے لیے اس دن کا اصل سبق یہ ہونا چاہیے کہ
**اپنے حقوق کو جانیں، سمجھیں اور ان پر کھڑے ہوں۔**
کیونکہ اگر قوم خود اپنے حقوق سے بے خبر ہو جائے تو پھر کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی طاقت، اس کی آزادی اور اس کی عزت کو چھین سکتا ہے۔
انسانی حقوق کا دن محض ایک رسمی تقریب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے آتا ہے، ہمیں بتانے کے لیے کہ کسی بھی معاشرے میں انسان اور اس کی عزت سب سے مقدم ہوتی ہے۔ اگر ہم اس دن کو واقعی معنی خیز بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانک کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں حقوق کاغذ پر لکھے ہوں، یا وہ جہاں انسان کو واقعی انسان سمجھا جائے۔
اُمید یہی ہے کہ ہمارا ضمیر جاگے—اور ہم اس دن کو صرف منائیں نہیں، *سمجھیں بھی*۔


