راولپنڈی (ایچ آر این ڈبلیو): شہر میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ نے تشویشناک صورت حال اختیار کر لی ہے، جہاں محکمہ صحت کے مطابق اب تک 374 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 82 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ محکمہ صحت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
ڈینگی کنٹرول مہم کے اہم اقدامات:
13 لاکھ 6 ہزار 235 مقامات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
1 لاکھ 45 ہزار 575 مقامات سے ڈینگی لاروا برآمد ہوا۔
3 ہزار 845 مقدمات ایس او پیز کی خلاف ورزی پر درج کیے گئے۔
1 ہزار 677 مقامات کو سیل کیا گیا۔
97 لاکھ 61 ہزار 7 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
عوامی احتیاط اور محکمہ صحت کی ہدایات:
محکمہ صحت نے شہریوں کو گھرانوں میں پانی کے جمع ہونے والے مقامات (جیسے برتن، پرانے ٹائر، کولر) صاف رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ نیز، ڈینگی مچھر کے پروان چڑھنے کے موافق ماحول کو روکنے کے لیے سپرے مہم بھی تیز کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بخار، شدید سر درد، جوڑوں میں درد اور جسم پر سرخ دھبے ظاہر ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔
موازنہ اور مستقبل کی حکمت عملی:
گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال ڈینگی کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ موسمی تبدیلیوں اور بارشوں کے بعد پانی کے جمع ہونے کے مواقع ہیں۔ محکمہ صحت نے مزید 1,000 ورکرز کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لاروا کی تلفی کی مہم کو مؤثر بنایا جا سکے۔ نیز، عوامی آگاہی کے لیے میڈیا مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
شہریوں کے لیے تجاویز:
گھر کے اندر اور آس پاس پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔
مچھر دانی اور کوائلز کا استعمال کریں۔
ڈینگی کی علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محکمہ صحت کے تعاون سے ڈینگی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔


