21

خیبر میں ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب

**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والے مقامی تاجر **حاجی ظریف عرف لنڈے** کو پہاڑی علاقے میں واقع ایک غار سے بازیاب کرالیا۔

ڈی پی او وقار احمد کے مطابق حاجی ظریف کو **7 اگست** کو لنڈی کوتل بازار کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ لنڈی کوتل میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی گئی۔

ڈی پی او کے مطابق مغوی کی بازیابی کے لیے ایک ماہ کے دوران **13 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش** کی گئی، جبکہ سائنسی بنیادوں پر تحقیقات اور دیگر شواہد کی مدد سے پولیس مغوی تاجر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

پولیس کے مطابق مصدقہ اطلاع پر رات گئے **سدوخیل کے پہاڑی علاقے** میں کارروائی کی گئی، جہاں مبینہ اغوا کاروں نے تاجر کو ایک غار میں رکھا ہوا تھا۔ پولیس کارروائی کے دوران مبینہ اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ڈی پی او وقار احمد کا کہنا ہے کہ مغوی کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا ہے جبکہ مبینہ اغوا کاروں کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور انہیں جلد گرفتار کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

واضح رہے کہ مغوی تاجر کے رشتہ داروں اور مقامی شہریوں نے اس کی بازیابی کے مطالبے پر احتجاج کرتے ہوئے **پاک افغان شاہراہ کو تقریباً ایک ماہ تک بند** رکھا تھا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

اغوا جیسے سنگین جرائم کے خلاف مؤثر اور بروقت کارروائی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ مغوی کی بحفاظت بازیابی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم گرفتار یا نامزد کیے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف الزامات کو عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تحقیقات میں سائنسی شواہد، شفاف قانونی طریقہ کار اور متاثرہ خاندان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی طرح شاہراہوں کی بندش اور احتجاج کے دوران عوام کی آمدورفت، کاروبار اور ہنگامی خدمات کی روانی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مبینہ اغوا کاروں اور دیگر افراد سے متعلق الزامات حتمی عدالتی فیصلے کے تابع ہیں۔ خبر میں بیان کردہ دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق اس رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں