34

مومن آباد پولیس کی سرپرستی میں گٹکا/ماوا کاروبارعروج پر

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی کے علاقے مومن آباد تھانے کی حدود میں گٹکا اور ماوا کے غیر قانونی کاروبار سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن پر شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق مبینہ طور پر کانسٹیبل کامران عرف “کمو” کی سرپرستی میں گٹکا، ماوا اور چھالیہ کا غیر قانونی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ بعض عناصر کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا الزام ہے کہ بعض افراد سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کر کے غیر قانونی کاروبار کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مومن آباد کے علاقے میں سرعام گٹکا اور ماوا کی فروخت جاری ہے، جبکہ اویس کچھی، موسی افغانی اور ریحانہ نامی خاتون سے متعلق بھی پولیس سرپرستی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر ایک شخص کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے لے کر رہا کیا گیا، جبکہ ایک 17 سالہ نوجوان کو ماوا استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر رہائی کے بدلے رقم طلب کی گئی۔

شہریوں کے مطابق بعض والدین سے بھی مبینہ طور پر بھاری رقم لے کر نوجوان کی رہائی عمل میں لائی گئی۔

علاقہ مکینوں نے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری انکوائری کی جائے اور مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں