کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) بااختیار عوام کے زیر اہتمام ایک کثیر الجماعتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
سیمینار میں سابق وفاقی وزیر اور بااختیار عوام کے سربراہ اسد عمر، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار اور امین الحق، پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی، جماعت اسلامی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ، اور فنکشنل لیگ کے رہنما سردار رحیم موجود تھے۔
اس کے علاوہ جی ڈی اے رہنما حسنین مرزا، ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی طحہٰ احمد خان اور عادل عسکری، جبکہ سابق اراکین سندھ اسمبلی بلال غفار، سدرہ عمران اور ڈاکٹر سنجے بھی سیمینار میں شریک ہوئے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ پراونشل فنانس کمیشن پر مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی سطح کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ فنانس کمیشن بھی قائم کیے جائیں۔
مقررین نے چارٹر آف ڈیموکریسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کے پاس ہونی چاہیے تھی، تاہم اس اصول پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے پبلک سیفٹی کمیشن اور ڈسٹرکٹ سیفٹی کمیشن کے عدم فعال ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو اکثریت ملنے کے باوجود انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی واضح طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ، کچرا اٹھانے والا نظام اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے اہم ادارے شہری حکومت سے لے کر صوبائی حکومت کے ماتحت کر دیے گئے ہیں، جس سے بلدیاتی نظام کمزور ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت تمام نظام ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا ہے اور کے ایم سی کے پاس مؤثر اختیارات موجود نہیں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اختیارات واقعی نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو یہ ایک بڑی جمہوری اور انتظامی کامیابی ہوگی، جبکہ موجودہ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔


