27

نجی آئل مارکیٹنگ کمپنی کی ایف آئی اے نوٹس کے خلاف درخواست پرسماعت، انکوائری جاری رکھنے کی اجازت

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)ہائی کورٹ میں نجی آئل مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے کو انکوائری جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے 9 اپریل کے جاری عبوری حکم امتناع میں ترمیم کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انکوائری کا حتمی نتیجہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا اور دورانِ انکوائری درخواست گزار کمپنی کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جائے گی۔

درخواست گزار کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور پرائس ڈفرینشل کلیمز کا اختیار اوگرا کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ ایف آئی اے کی انکوائری اس کے اختیارات سے تجاوز ہے۔

وکیل کے مطابق مارچ 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وفاقی حکومت نے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور او ایم سیز کو پرائس ڈفرینشل کلیمز کی مد میں ادائیگی کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس مد میں حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 14 ارب 45 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے نے 2 اپریل کو نوٹس جاری کر کے پیٹرولیم اسٹاک کی منتقلی اور فروخت پر پابندی عائد کی تھی، جس کے باعث ٹرمینلز پر اسٹاک روکنے سے سپلائی چین اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ حکومت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق درخواست گزار کمپنی اسٹاک کا معائنہ کروائے بغیر پرائس ڈفرینشل کلیمز کی ادائیگی چاہتی ہے، جبکہ حکومتی پالیسی تمام او ایم سیز کے لیے یکساں ہے۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اسٹاک کے معائنے پر کوئی اعتراض نہیں اور عدالت نے پہلے ہی اس حوالے سے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، جس کے باعث ایف آئی اے کی معائنے کی کارروائی معطل ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی اے کو معائنہ مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور بعد ازاں حتمی کارروائی عدالتی فیصلے سے مشروط کر دی جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایف آئی اے کو انکوائری جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں