34

اغوا کیس میں محمد جاوید اور محمد شہزاد کی عبوری ضمانت کنفرم، عدالت کا فیصلہ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کراچی ویسٹ نے اغوا کے مقدمے میں نامزد ملزمان محمد جاوید اور محمد شہزاد کی عبوری ضمانت کو کنفرم کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اپنے وکیل لیاقت علی خان گبول کے ذریعے دائر کی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پڑوسن نسرین اور اس کے تین سالہ بیٹے سبحان کو مبینہ طور پر اغوا کیا۔

مدعی مقدمہ محمد اشرف نے تھانہ جیکسن میں ایف آئی آر نمبر 69/2026 درج کروائی، جس میں ملزمان پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 اے اور پریونشن آف ٹریفکنگ ان پرسن ایکٹ 2018 کی دفعات 3، 4 اور 5 شامل ہیں۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان بے گناہ ہیں اور ان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق اس واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں جو اغوا کی تصدیق کر سکے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مبینہ مغویہ اس وقت لاڑکانہ میں موجود ہے اور اس نے مبینہ طور پر کسی اور شخص کے ساتھ شادی بھی کر لی ہے، جبکہ اس نے سندھ ہائی کورٹ میں ہراسمنٹ کی پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔

وکیل کے مطابق مغویہ کے 161 کے بیان میں بھی ملزمان کا کوئی ذکر موجود نہیں، جبکہ ملزمان عبوری ضمانت کے بعد پولیس کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں اور ٹرائل کورٹ میں بھی پیش ہو رہے ہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی اور ہر ملزم کو 50،50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

اسی دوران عدالت نے ایک اور کیس میں تیل چوری اور خرد برد کے الزام میں گرفتار ملزمان ریاض اور محمد طارق کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی۔ یہ مقدمہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اینٹی کرپشن سیل کی مدعیت میں درج ایف آئی آر نمبر 07/2026 کے تحت زیر سماعت تھا۔

وکیل لیاقت علی خان گبول کے مطابق ملزمان پر نیشنل ریفائنری سے پٹرولیم مصنوعات کی مبینہ چوری اور جعلی لائسنس کے ذریعے فروخت کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق کوئی ٹھوس ثبوت یا سرکاری شکایت موجود نہیں تھی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں