کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)گرین ایریاز کی مسلسل کمی اور پارکوں کی کمرشلائزیشن نے شہر کے ماحولیاتی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کے وہ پارک جو کبھی بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی چہل قدمی اور خاندانوں کی تفریح کا مرکز ہوا کرتے تھے، آج ہوٹل مافیا، شادی لانز اور اب اشتہاری کمپنیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔
شہری تنظیموں کے مطابق کراچی کے تقریباً 90 فیصد پارکس یا تو بدانتظامی، قبضہ مافیا اور تجارتی مفادات کی نذر ہو چکے ہیں یا پھر مختلف ناموں پر نجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں پارکوں کے اندر ریسٹورنٹس، کیفے، شادی لان، پارکنگ ایریاز اور بڑے بڑے بل بورڈز نصب کر دیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف سبزہ ختم ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کے لیے کھلی جگہیں بھی سکڑتی جا رہی ہیں۔
پارکوں کی اس صورتحال کے خلاف شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے عدالتوں سے بھی رجوع کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رفاہی اور تفریحی مقامات کو “پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ” کے نام پر کمرشلائز کیا جا رہا ہے جو شہری حقوق اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تاہم، یہ درخواستیں تاحال سماعتوں اور تاریخوں کے انتظار میں ہیں۔
دوسری جانب متعلقہ ادارے تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ماضی میں بھی کئی پارکوں کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات، شادی ہالز اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔
شہریوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پارکوں کو کمرشل مافیا کے شکنجے سے آزاد کرا کے انہیں اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والی نسلوں کے لیے کراچی میں نہ کھیل کے میدان بچیں گے اور نہ ہی عوامی تفریحی مقامات، اور یہ شہر صرف کنکریٹ، بل بورڈز اور مافیا کا جنگل بن کر رہ جائے گا۔


