کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کراچی نے ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹینشن میں کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتےہوئے ایک منظم غیر قانونی کال سینٹر کو بے نقاب کر دیا۔کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ کال سینٹر میں کام کرنے والے ایجنٹس غیر ملکی بینکوں کے عملے کا روپ دھار کر اسپوفنگ کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان جعلی بینک نمائندے بن کر حساس معلومات حاصل کر رہے تھے، جن میں سوشل سیکیورٹی نمبرز، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، والدہ کا نام اور سی وی وی کوڈز شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا مبینہ طور پر غیر قانونی مرچنٹ اکاؤنٹس پر چارجز لگانے اور مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
چھاپے کے دوران 10 لیپ ٹاپس، 6 موبائل فونز، ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا بینکنگ ڈیٹا اور دیگر اہم ڈیجیٹل آلات و شواہد برآمد کر کے موقع پر ہی ضبط کر لیے گئے۔این سی سی آئی اے کے مطابق سات ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جنہیں گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے۔ ضبط شدہ ڈیجیٹل سامان کو مزید تکنیکی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 32/26 درج کی گئی ہے، جو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے سیکشنز 3، 4، 13، 14، 16 اور 26 کے تحت ہے، جبکہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 34 اور 109 بھی شامل کی گئی ہیں۔
این سی سی آئی اے کراچی نے سائبر کرائم کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور شہریوں و اداروں کو آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


