واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ امریکا کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات جاری ہیں، لیکن وہ آبنائے ہرمز جیسے معاملات پر دباؤ ڈال کر امریکا کو جھکا نہیں سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا اور ایرانی قیادت کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ ان کے مطابق قاسم سلیمانی متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق اہم معلومات آج دن کے اختتام تک سامنے لائی جائیں گی۔
امریکی صدر نے اسپین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی معاشی صورتحال پر افسوس کرتے ہیں اور کہا کہ اسپین نیٹو میں اپنے دفاعی اخراجات پورے نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کو اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنا چاہیے تھا لیکن وہ ناکام رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنی کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اسپین کے اڈے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طبی شعبے میں اصلاحات جاری ہیں، ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے جبکہ امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔


