اورنگی ٹاؤن میں پانی کا شدید بحران؛ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** اورنگی ٹاؤن میں پانی کے سنگین بحران اور انتظامیہ کی عدم توجہی کے خلاف جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے عوامی حقوق کی جنگ عدالت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یو سی 6 کے چیئرمین حاشر عمر اور زاہد اقبال نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک باقاعدہ پٹیشن دائر کی ہے جس میں صوبائی حکومت، واٹر بورڈ اور میئر کراچی کو فریق بناتے ہوئے شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق اورنگی ٹاؤن کی آدھی سے زائد آبادی بوند بوند پانی کو ترس رہی ہے اور لوگ شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ نلکوں میں پانی نہیں آتا لیکن ٹینکر مافیا ہر گھر میں پانی پہنچا رہی ہے، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ مہنگے ٹینکر خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ زاہد اقبال نے بتایا کہ بیوہ پمپنگ اسٹیشن سے پانی کا کوٹہ انتہائی کم ہے اور 30 سے 45 دن کے طویل انتظار کے بعد جب پانی آتا ہے تو وہ صرف چند گھنٹوں کے لیے ہوتا ہے، جس کے بعد دوبارہ باری آنے میں 6 سے 7 ماہ لگ جاتے ہیں۔

پٹیشن میں قانونی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے جس میں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور میئر کراچی بطور چیئرمین مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ یہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں بلکہ ناقص پلاننگ، غیر قانونی ہائیڈرینٹس اور ناجائز کنکشنز کا ہے جو بحران کی اصل جڑ ہیں۔ عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پانی کا کوٹہ 5 گھنٹے سے بڑھا کر کم از کم 32 گھنٹے کیا جائے اور 45 دن کے طویل دورانیے کو کم کر کے ہر 15 دن بعد پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔

**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں