تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس کی تاخیر اور ناکامی، سائرہ اغوا اور ہولناک قتل کا المناک واقعہ

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس کی تاخیر اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ایک 30 سالہ خاتون سائرہ کا اغوا اور ہولناک قتل سامنے آیا۔ مقتولہ چار بچوں کی ماں تھی اور دو ماہ قبل ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والی ملزمہ کی اہلیہ تھی۔

ذرائع کے مطابق دو روز قبل فیروزوالہ کچہری میں تاریخ پر آئی تو سسرال والوں نے سائرہ کا اغوا کر لیا۔ مقتولہ کی والدہ پہلے تھانہ فیروزوالہ گئی، لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعد میں بوڑھی والدہ اپنے متعلقہ تھانے سبزار گئی، لیکن وہاں بھی اس کی فریاد پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

15 پر کال کرنے کے بعد تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے رابطہ کیا، لیکن اپنی مرضی کی درخواست لکھ کر بوڑھی والدہ کو واپس بھیج دیا۔ اگلے روز والدہ دوبارہ تھانے پہنچی تو مقدمہ درج نہ ہو سکا۔

بعد ازاں، مظلومہ سائرہ کو مریدکے تھانہ صدر کے علاقہ ننگل ساداں میں ملزمان نے درندگی کا نشانہ بنایا، جسم پر گرم استریوں سے تشدد کیا، ہونٹ اور کان کاٹے، نازک حصوں پر سگریٹ جلائی اور چھ گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

تھانہ صدر مریدکے پولیس نے مقتولہ کی نعش کو کوڑا اٹھانے والی ٹرالی میں ڈال کر مردہ خانے منتقل کیا اور بعد میں لاہور کے میو ہسپتال کے مردہ خانے میں بھیج دیا۔

تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے مقتولہ کے قتل کی اطلاع ملنے کے بعد اپنی نااہلی چھپانے اور نوکری بچانے کے لیے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔

مقتولہ کی والدہ نے روتے ہوئے کرائم رپورٹر اے ڈی ملک سے انصاف کی اپیل کی اور کہا کہ قاتلوں کو فوری طور پر سخت سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں