وضاحت: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا پس منظر اور بچوں کی اسمگلنگ کی کوشش کی ناکامی

**کراچی، پاکستان (ایچ آڑاین ڈبلیو)** فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک حالیہ ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، وائرل ہونے والی ویڈیو دراصل سال 2025 میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر پیش آنے والے ایک واقعے کی ہے، جس میں امیگریشن حکام نے مستعدی دکھاتے ہوئے بچوں کی اسمگلنگ کی ایک منظم کوشش کو ناکام بنایا تھا۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے وضاحت کی کہ خاتون مسافر، کرن سہیل، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ موزمبیق روانہ ہو رہی تھیں۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران جب ان کے سفری دستاویزات کی جانچ کی گئی تو ان میں واضح تضادات پائے گئے۔ مزید سائنسی اور فنی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ان کے ہمراہ موجود ایک کمسن بچہ خاتون سے حیاتیاتی (Biologically) طور پر منسلک نہیں تھا، بلکہ اسے غیر قانونی طور پر روانگی سے قبل خاتون کے حوالے کیا گیا تھا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس گھناؤنے جرم میں متعدد افراد ملوث تھے جنہوں نے جعلی دستاویزات کی مدد سے بچے کو بیرون ملک اسمگل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام مسافروں کو آف لوڈ کیا اور کیس کو مزید قانونی چارہ جوئی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا۔ ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔ ایف آئی اے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن معصوم بچوں کے حقوق کا تحفظ اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کے خلاف آگاہی فراہم کرنا ہے۔ بچوں کا تحفظ ہم سب کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)

اپنا تبصرہ بھیجیں