**کراچی، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مراکش کے راستے اسپین جانے کی غیر قانونی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، سوات سے تعلق رکھنے والے مسافر فیصل مراد ولد قاضی گل کو اس وقت روکا گیا جب وہ مراکش کے وزٹ ویزے پر سفر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امیگریشن کلیئرنس کے دوران شک ہونے پر مسافر کو مزید جانچ کے لیے ریفر کیا گیا۔ موبائل فون اور دستاویزات کی تلاشی کے دوران انسانی اسمگلنگ کے مشکوک شواہد سامنے آئے۔ دورانِ تفتیش مسافر نے اعتراف کیا کہ اس کا اصل مقصد مراکش کی سیر نہیں بلکہ وہاں سے غیر قانونی طور پر اسپین داخل ہونا تھا۔ مسافر نے انکشاف کیا کہ پشاور کے ایک ایجنٹ، بہادر خان، نے 30 لاکھ روپے کے عوض اسے مراکش کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سمندری راستے سے اسپین پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔
مسافر کے پاس نہ تو ہوٹل بکنگ موجود تھی اور نہ ہی وہ سفر کے لیے درکار مناسب مالی وسائل دکھا سکا۔ ان حقائق کی روشنی میں انسانی اسمگلنگ کے واضح ثبوت ملنے پر مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافر کو مزید قانونی کارروائی اور ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں تفتیش کا عمل جاری ہے۔
—
**انسانی حقوق کی آواز بنیں – ہماری مدد کریں**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا مشن انسانی اسمگلنگ جیسے گھناؤنے جرائم کے خلاف آگاہی فراہم کرنا اور شہریوں کو ان خطرناک راستوں سے بچانا ہے۔ غیر قانونی ہجرت کے دوران ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس عظیم مقصد کو جاری رکھنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
**آج ہی اپنا تعاون فراہم کریں:** [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us)


