حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)سول اسپتال حیدرآباد میں لیڈی ڈاکٹرز اور خواتین عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (اے ایم ایس) ڈاکٹر مجیب کلوڑ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی شکایت پر حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کیں، جس کے بعد محکمہ صحت سندھ حرکت میں آ گیا۔ وزیر صحت سندھ کی ہدایت پر ڈی جی ہیلتھ سندھ کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی متاثرہ لیڈی ڈاکٹرز اور دیگر خواتین عملے کے بیانات قلمبند کرے گی اور تین روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجیب کلوڑ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹل سرجن ہیں اور قواعد و ضوابط کے برخلاف انہیں ایک اہم انتظامی عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ ان پر ماضی میں بھی اسپتال میں ادویات کی مبینہ چوری، طبی فضلے کی غیر قانونی فروخت اور دیگر بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
مزید بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر مجیب کلوڑ، سول اسپتال حیدرآباد کی سابق انتظامیہ سے منسلک ایک بااثر گروہ کا حصہ رہے، جس کے باعث ان کے خلاف متعدد شکایات ماضی میں دبا دی گئیں۔ گزشتہ سال ان کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ہنگامہ آرائی کرتے دکھائی دیے، بعد ازاں پولیس نے انہیں حراست میں بھی لیا، تاہم تحقیقات مبینہ طور پر اثر و رسوخ کی نذر ہو گئیں۔
عوامی حلقوں اور طبی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بار تحقیقات کو شفاف، غیر جانبدار اور منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری اسپتالوں میں خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔


